پاسداران اسلام

 مؤلف کاتعارف:

            علامہ سید محمد حسین، طباطبائی خاندان کے چشم و چراغ تھے جو چودہ پشتوں سے ممتاز علمی شخصیتوں کو جنم دیتا رہا ہے آپ نے اپنے وقت کے نامور علماء مرزا محمد حسین نائینی اور شیخ محمد حسین اصفہانی سے فقہ اور اصول فقہ میں کسب فیض کیا۔ خوش قسمتی سے آپ کو عارف باللہ مرزا علی قاضی جیسے استاد میسر آگئے جنہوں نے آپ کو اسرار ربانی سے روشناس کرایا اور راہ کمال کی جانب آپ کی رہبری کی۔

علامہ طباطبائی نے ایران کے روایتی اور جدید علمی حلقوں پر بڑا گہرا اثر ڈالا اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں ایک ایسا روشن خیال طبقہ پیدا کرنے کی کوشش کی جو اسلامی عقلیات سے روشناس ہونا چاہتا تھا۔ ان کے بہت سے شاگردوں نے جن کا تعلق علماء کے گروہ سے ہے، اس کوشش میں ان کی تاسی کی ہے۔ ان کے کچھ شاگرد مثلاً مشہد یونیورسٹی کے استاد سید جلال الدین آشتیانی اور تہران یونیورسٹی کے استاد شیخ مرتضی مطہری خود کافی شہرت یافتہ اسکالر تھے۔

            تعلیم و تربیت میں شدید مصروفیت کے باوجود علامہ نے ۲۵ سے زائد کتب و رسائل تالیف کئے اور بے شمار مضامین لکھے جو اُن کے روایتی اسلامی علوم میں تبحر کی گواہی دیتے ہیں۔ علامہ کے آثار میں سے المیزان فی تفسیر القرآن (۲۰ جلدیں)، اصول فلسفہ و روش ریاء لسم (۵جلدیں)  اور حاشیہ بر اسفار (۷ جلدیں)  قابل ذکر ہیں۔

 کتاب کا تعارف:

             پاسداران اسلام، شیعہ در اسلام کا اردو ترجمہ ہے موجودہ دور میں ایک ممتاز معاصر شیعہ عالم کے ہاتھوں لکھی گئی شیعیت کا تعارف کرانے والی پہلی تصنیف ہے۔

 اگرچہ اس کے لکھنے کا مقصد ان حضرات کو شیعیت سے متعارف کرانا ہے جو اس مکتب سے وابستہ نہیں ہیں تاہم اس میں دیئے گئے دلائل اور اس کا اسلوبِ بیان روایتی شیعیت کا ہے جس کی علامہ طباطبائی نمائندگی کرتے تھے اور جس کے وہ ایک رکن تھے۔ انھوں نے وہ حقیقی شیعہ نقطۂ نگاہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس پر اہل تشیع کا ایمان ہے اور جس کے مطابق وہ پشت در پشت عمل کرتے آئے ہیں اور اب بھی کررہے ہیں۔ انھوں نے شیعی معتقدات بلاکم و کاست بیان کئے ہیں اور اس بات کی پروا نہیں کی کہ اس کا ردعمل بیرونی دنیا پر کیا ہوگا اور نہ ہی شیعیت کی اُن خصوصیات کو نظر انداز کیا ہے جو متنازعہ فیہ رہی ہیں۔  اس کتاب میں انھوں نے شیعیت کے ظاہری اور باطنی پہلوؤں کی اس حد تک تشریح اور حمایت کی ہے جس حد تک شیعی دنیا میں اپنی حیثیت کے پیش نظر باطنی تعلیمات کے بارے میں کھل کر بات کرنا ان کے لیے ممکن ہوا ہے تاہم انھوں نے جو کچھ کہا ہے ایسے مستند انداز میں کہا ہے جو فقط روایت کی بدولت ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ علامہ طباطبائی کے الفاظ کی پشت پر شیعی اسلام کی چودہ صدیاں اور ایک ایسے مقدس اور دینی علم کا تسلسل اور ترسیل ہے جو خود اسلامی روایت کے تسلسل کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔

             یہ کتاب قارئین کو شیعی اسلام کو سمجھنے میں ممدو معاون ثابت ہوگی اور انہیں اس جانب راغب کرے گی کہ وہ اسلام کو ایک عظیم تخلیقی مکتب فکر کی حیثیت سے پہچانیں۔ اس سے بیش از پیش محبت کریں اور اس کی خاطر ہر ممکن قربانیاں دیں۔