اسلامی داستانیں

 مؤلف کاتعارف:

             شیخ مرتضیٰ مطہری ۱۹۲۰ء میں مشہد مقدس کے ایک گاؤں فریمان میں شیخ محمد حسین مطہری کے گھر پیدا ہوئے۔ مشہد میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے حوزہ علمیہ قم میں داخلہ لیا۔ وہاں۱۹۴۴ء سے ۱۹۵۲ء تک آپ نے آیت اللہ بروجردی سے فقہ اور اصول ، آیت اللہ خمینی سے ملا صدرا کا فلسفہ ، عرفان اور اخلاق  اور علامہ طباطبائی سے فلسفہ ، بو علی سینا کی شفا وغیرہ اور آیت اللہ میرزا علی آقا شیرازی سے اخلاق اور عرفان کی تعلیم حاصل کی۔ آپ کی شخصیت کی تعمیر اور تشکیل میں ان اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے۔

            قم میں تکمیل تعلیم کے بعد آپ ایک عرصے تک تہران یونیورسٹی میں الٰہیات اور معارف اسلامی کے سربراہ رہے۔ استاد شہید امت کی اصلاح میں بڑی دلچسپی رکھتے تھے۔ سینکڑوں اہم موضوعات پر آپ کی تحریریں اور تقریریں ’’ مجموعہ آثار شہید مطہری ‘‘ کے عنوان سے ۲۰ مجلدات میں شائع ہوچکی ہیں۔ تدریسی امور کے علاوہ آپ اجتماعی ، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ آپ علمی اور تبلیغی مقاصد کے لیے قائم ہونے والے ادارے ’’حسینیہ ارشاد ‘‘ تہران کے بانی اراکین میں سے تھے۔ اس ادارے سے آپ کا بہت سا علمی کام شائع ہوا ہے۔ جب انقلاب اسلامی ایران کی تحریک زور پکڑنے لگی تو شاہ کے خلاف تقریر کرنے کے جرم میں آپ کو جیل بھیج دیا گیا۔

            آپ انقلاب اسلامی ایران کے ایک مرکزی رہنما تھے اور آپ نے انقلاب کی کامیابی کے لیے بڑی جدوجہد کی تھی۔ امام خمینی نے آپ کو دستور ساز کونسل کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔ اسلام کی ترویج اور اسلامی انقلاب کے لیے کام کرنے کے جرم میں ایک انتہا پسند مذہبی گروپ ’’ فرقان ‘‘ نے یکم مئی ۱۹۷۹ء کو گولی مار کر آپ کو شہید کردیا۔

 کتاب کا تعارف:

            کتاب اسلامی داستانیں آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کی فارسی کتاب داستان ہائے استاد کا اردو ترجمہ ہے۔  ان داستانوں کو استاد شہید مرتضی مطہری کی مختلف کتابوں سے جمع کیا گیا ہے۔ ہر داستان کے آخر میں محولہ کتاب کا نام لکھ دیا گیا ہے۔کوئی داستان بیان کرتے وقت اصل متن سے انحراف نہیں کیاگیا اورنہ ہی کوئی کمی بیشی نہیں کی گئی ہے۔  اگرچہ مطالب کو مختلف موضوعات کے تحت بیان کرنا دلچسپ ہوتا ہے لیکن مطالب میں تنوع اور گوناگوں ہونے کا خود اپنا ایک حسن ہے۔ لہٰذا یکسانیت سے بچنے کے لئے مطالب کو موضوعات کے تحت بیان نہیں کیا ہے۔

            آقائی مطہری فرمایا کرتے تھےکہ اس قسم کی داستانیں اخلاقی اور اجتماعی رہنمائی کے لئے عملی طورپر مفید ہوتی ہیں اور ان کے ذریعے سے پڑھنے والا اسلامی تعلیمات کی حقیقت اور روح سے واقف ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو یا اپنے ماحول اور معاشرے کو ان پیمانوں سے ناپ سکتا ہے۔ پھر اسے یہ بھی پتا چل جاتا ہے کہ جس معاشرے میں وہ زندگی بسر کر رہا ہے اور جس کے تمام طبقے ہی اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ان میں سے بعض تو اسلام کی خاطر مرنے مارنے تک کو تیار رہتے ہیں وہ معاشرہ دراصل اسلام کی حقیقت سے کس حد تک واقف ہے اور اس پر کتنا عمل کرتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ داستانیں عوام اور خواص دونوں کو فائدہ پہنچائیں گی اور سبھی کے کام آئیں گی۔

             دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے قلم اور زبان کو  لغزشوں سے محفوظ رکھے اور د ین و دنیا میں ہمیں ثابت قدم رکھے ۔