بہلول دانا
آل محمد کا ديوانہ

کتاب کا تعارف:

            قارئین — ! بہلول تاریخ کا ایک ایسا یگانہ روزگار کِردار ہے  جسے آل محمدؑ کے معجزے سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا — اِس نام کے کئی اور لوگ بھی گزرے ہیں — لیکن بہلول سے مراد عموماً وہی شخص لیا جاتا ہے — جس نے دیوانگی کا مفہوم بدل دیا اور دانش برہانی کے معنٰی سمجھائے — تاریخ کے صفحات میں وہ واحد دیوانہ ہے جو دانائے راز ہے اور وہ تنہا پاگل کہلوانے والا ہے — جو دانش مندوں  کو حکمت و دانش سکھاتا ہے — اُس نے ایک ایسی انوکھی راہ چُنی تھی جو آج تک کسی کے قدموں سے پائمال نہیں ہوئی۔

            بہلول کی ’ ب ‘ پر پیش اور ’ ہ ‘ پر جَزم ہے — یہ نام ہنس مکھ ، سچے اور حاضر جواب لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے — بہلول کی اِن ہی خوبیوں نے اس کا اصل نام فراموش کروا دیا تھا — وہ ہر جگہ بہلول ہی کہلواتا تھا — جس طرح وہ اپنے دَور میں ایک مقبول شخصیت تھا — اسی طرح ہر دور میں وہ ایک پسندیدہ کردار رہا ہے  اس کی حکایات دلچسپی اور شوق سے کہی اور سُنی جاتی ہیں۔

            اُس کا اصل نام وہب بن عمرو — اور جائے ولادت کُوفہ بیان کی گئی ہے — وہ بغداد کے ثروت مندوں میں سے تھا۔ بعض روایات میں اسے ہارون رشید کا قریبی رشتے دار اور برادرِ مادری لکھا گیا ہے — وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے  تھا — اُس نے ان کے فرزند امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا زمانہ بھی دیکھا تھا

قاضی نُور اللہ شوشتریؒ کے بقول وہ ہارون کے عہد کے دانشمندوں میں سے گزرا ہے۔ جو کسی مصلحت کے تحت دیوانہ بن گیا تھا۔ (مجالس المومنین(

            اُس کی دیوانگی کے بارے میں دو روایات مشہور ہیں — یہ بھی معروف ہے کہ اس نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ہدایت پر دیوانگی کا لبادہ اوڑھ لیا تھا — اس طرح اس نے اپنی جان بھی بچا لی اور اس دَور کے شاہی دربار کے لیے ایک ایسا نقّاد بن گیا جو — ہنسی ہی ہنسی میں انھیں آئینہ دکھاتا رہتا تھا

            ایک روایت کے مطابق — ہارون نے دیگر متقی اور نامور لوگوں کے ساتھ بہلول سے بھی امام معصوم کے قتل کا فتویٰ طلب کیا تھا  بہلول اِنکار کے نتائج سے خُوب واقِف تھا — اِس لیے اُس نے  امام موسیٰ کاظمؑ سے رہنمائی کی درخواست کی اور ان کی ہدایت پر دیوانہ بن کر اپنی جان بچا لی

            اس کے بارے میں دوسری روایت یہ ہے — کہ بہلول کا جُرم آلِ محمدؑ سے عقیدت اور اِرادت مندی تھا — جو ہارون کے دَور میں  قابل گردن زدنی جُرم قرار پایا تھا — جب بہلول کو پتا چلا کہ اسے عنقریب گرفتار کرکے قتل کردیا جائے گا — تو اس نے اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ امام معصوم سے قید خانے میں رابطہ کیا

            حالاتِ زمانہ کے پیش نظر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اس کے سوال کا جواب صرف ایک حرف ’ ج ‘ کی صورت میں دیا جس سے بہلول پر ’ جُنون ‘ کے معنٰی منکشف ہوئے — وقت اور حالات کے تقاضے کو سمجھتے ہوئے اس نے ایک ایسی پُر از حکمت دیوانگی  اختیار کر لی — جسے اس دَور کی چلتی پھرتی اپوزیشن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ ایک حیرت انگیز شگفتہ برجستگی کے ساتھ اپنی دیوانگی کا بھرم بھی رکھتا تھا — اور دیوانی بات بھی نہیں کہتا تھا — اس نے دیوانگی اور فرزانگی کو کچھ ایسے معجزانہ انداز میں ہم آہنگ کیا تھا کہ وہ نہ صرف اس کی جان کی ضمانت تھی بلکہ مظلوموں کی حمایت کا ایک مؤثر ذریعہ اور حکومت وقت پر کھلی تنقید بھی تھی۔

            اس کی شگفتگی ، زندہ دلی اور بذلہ سنجی نے اسے ہر دور کا ایک   ہر دلعزیز کردار بنا دیا ہے — تاریخ کے صفحات میں وہ ایک ایسا   محیر العقول کردار ہے — جو دیوانہ بھی ہے اور لوگ اس کے فضل و کمال کے قائل بھی ہیں — وہ پاگل بھی کہلاتا ہے اور مشکل مسئلوں میں اس کی رائے کو اہمیت بھی دی جاتی ہے اس سب کے باوجود کوئی یہ ثابت نہیں کر پاتا کہ وہ دیوانہ نہیں ہے — یہی اس کا کمال ہے کہ وہ درحقیقت آل محمدؑ کا دیوانہ ہے۔

            اِس کتاب کی تالیف میں کرمان محمود ہمت کی جمع کردہ حکایات سے مدد لی گئی ہے اور ہم اس کا اعتراف شکریے کے ساتھ کرتے ہیں۔