انتظار امام آخر فتح

کتاب کا تعارف:

            کتاب ’’ انتظار امام ‘‘  آیت اللہ محمد باقر الصدر اور ’’ آخری فتح ‘‘  مشہور دانشور علامہ مرتضیٰ مطہری شہید کی تصنیف ہے۔ چونکہ دونوں تصانیف کا موضوع باہم مربوط ہے اور مصنفین ہم پایہ ہیں لہٰذا قارئین کی آسانی کے لیے دونوں کتابوں کو یکجا شائع کیا گیا ہے۔

انتظار امام:   اسلام کی لازمی فتح کے بارے میں قرآن حکیم کی پیشنگوئی امام مہدی کے دوبارہ ظاہر ہونے پر پوری ہوگی۔ وہ برائی کے خلاف جنگ کریں گے، دنیا کے دکھوں کا مداوا کریں گے اور ایک ایسا عالمی نظام قائم کریں گے جس کی بنیاد عدل و انصاف اور نیکی کی اسلامی تعلیمات پر ہوگی۔

            فقط تمام مسلمان فرقے ہی نہیں بلکہ دنیا کے بڑے بڑے مذاہب مثلاً عیسائیت، یہودیت، بدھ مت اور زرتشتی مذہب بھی اس عقیدے کے حامل ہیں۔جب سے انسان نے عالم ہستی میں قدم رکھا ہے پروردگار عالم نے اسی دن سے اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ رابطہ قائم رکھا ہے۔ نبیوں کا مبعوث کیا جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سلسلۂ نبوت پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آکر ختم ہونا تھا کیونکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ ہی اسرار الٰہیہ کا محفوظ خزینہ تھا۔ لیکن چونکہ الٰہی ہدایت قیامت تک کے لئے تھی اس لئے کسی نئے پیغام کی تو کوئی ضرورت نہ تھی البتہ اسی ابدی پیغام کا اپنی مکمل صورت میں کسی امین سینے میں محفوظ رہنا ضروری تھا تاکہ زندئہ لامتناہی کا رابطہ زندئہ متناہی سے قائم و دائم رہے اور بلاشبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بار امامت اپنے جانشین امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سپرد کیا۔ یقینا خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں کہ کون سا سینہ اس کے قابل تھا؟یہ اہل تشیع ہی ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ یہ رابطہ امام مہدی کے ذریعے اب بھی قائم ہے اور ابدالآباد تک قائم رہے گا۔

            امام مہدی زندہ ہیں۔ آپ مختلف مقامات پر تشریف لے جاتے ہیں ار دنیا کے حالات میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ آپ مؤمنین کی مجالس میں اکثر شرکت فرماتے ہیں لیکن اپنی شخصیت کے اظہار سے اجتناب برتتے ہیں۔ آپ مقررہ دن کو دوبارہ ظاہر ہوں گے۔ اس وقت آپ بدی کی قوتوں کے خلاف جنگ کریں گے۔ ایک عالمی انقلاب کی رہنمائی فرمائیں گے اور دنیا میں عدل و انصاف اور نیکی پر مبنی ایک نیا نظام قائم کریں گے۔

آخری فتح:   اس میں مختلف مکاتب فکر کی آراء کی روشنی میں ارتقاء سے فلسفیانہ انداز میں بحث کی گئی ہے اور باطل پر حق کی فتح کے سلسلے میں امام مہدیؑ کے کردار کی وضاحت کی گئی ہے۔

            تقریباً تمام اسلامی مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ بالآخر نیکی ، صلح اور عدل و انصاف کی قوتیں ظلم اور فساد کی قوتوں پر فتح پا لیں گی۔ دین اسلام ساری دنیا میں پھیلے گا اور ایک مثالی معاشرہ قائم ہوگا۔ ان سب کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ یہ تمام کام ایک مقدس اور ممتاز ہستی کے ہاتھوں انجام پائے گا جسے اسلامی روایات میں ’’ مہدی ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    بنیادی طور پر یہ قرآنی نظریہ ہے۔ قرآن مجید نے واضح الفاظ میں پیشین گوئی کی ہے کہ بالآخر فتح اسلام کی ہوگی۔ نیک اور صالح لوگ کامیاب ہوں گے اور باطل کی قوتوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ؎

دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت

ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم افکار

    یہ عقیدہ کوئی موہوم چیز نہیں بلکہ نظام فطرت اور تاریخ کے ارتقائی عمل کے عین مطابق ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ انسان کا مستقبل شاندار ہے اور گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔

            امید ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ امام مہدیؑ کے قیام کے اغراض و مقاصد کو بہتر طور پر سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انشاء اللہ