ہمارے عقائد
کتاب کا تعارف:
زیر نظر کتاب ’’ ہمارے عقائد ‘‘ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے — جو ایک فقیہ اور مفسر قرآن بھی ہیں — نہایت اختصار اور عصر حاضر کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریر کی ہے۔ یہ کتاب جہاں مختصر ہے وہاں اس کی زبان بھی نہایت سادہ اور آسان ہے۔
عقائد کے موضوع پر آپ کی کتاب ’’ اصول عقائد ‘‘ جو ذرا تفصیلی ہے اپنے دل نشیں انداز و اسلوب تحریر کی وجہ سے عوام سے سند قبولیت حاصل کر چکی ہے اور اس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
یہ مختصر سی کتاب ’’ ہمارے عقائد ‘‘ درج ذیل خصوصیات کی حامل ہے :
(۱) تمام ضروری مطالب کا خلاصہ اس میں بیان کیا گیا ہے تاکہ تحقیق کے خواہش مند قارئین کے کندھوں سے متعدد کتابوں کے مطالعے کا بوجھ کم ہوجائے۔
(۲) مطالب واضح ہیں۔ ان میں کسی قسم کا ابہام نہیںہے اور ان اصطلاحات کا استعمال نہیں کیا گیاجو فقط علمی ماحول یا دینی مدارس میں مستعمل ہوں۔ نیز اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ یہ کام مباحث کو سطحی بنانے کا موجب نہ بنے۔
(۳) اگرچہ ہمارا مقصد عقائد بیان کرنا ہے نہ کہ ان کے دلائل بیان کرنا لیکن بعض اہم مقامات پر اس مختصر تحریر کے اسلوب کو مدنظر رکھتے ہوئے مباحث کو کتاب و سنت اور عقلی دلائل سے مزین کیا گیا ہے۔
(۴) کوشش کی گئی ہے کہ کوئی بات نہ چھپائی جائے تاکہ حقائق کھل کر بے لاگ انداز میں بیان ہوں۔
(۵) تمام فرقوں کے احترام کے سلسلے میں قلم کے تقدس کو تمام مباحث میں ملحوظ رکھا گیا۔
عقائد کی تشریح انبیائے کرام علیہم السلام کی آمد سے شروع ہوئی اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ان عقائد کو آفاقیت بخشی اور قیامت تک آنے والی انسانی نسلوں کے لیے عقائد کا عمدہ ذخیرہ پیش فرمایا۔
آپ کے بعد آپ کے اہل بیتؑ جو درحقیقت شریک کار رسالت ہیں دین کے عقائد کی ترویج میں کوشاں رہے اور اس راہ میں انھوں نے ہر طرح کی سختیاں جھیلیں اور قربانیاں دیں۔ اس طرح اُنھوں نے اسلامی عقائد کا یہ عمدہ ذخیرہ زمانے کی دستبرد سے بچا کر امانت کے طور پر ہمارے حوالے کیا ہے تاکہ ہم اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کریں۔
قرآن مجید نے ایمان کی بنیاد تعقل و تفکر پر رکھی ہے۔ قرآن یہی چاہتا ہے کہ لوگ اچھی طرح غور و فکر کے بعد ایمان لائیں۔ قرآن مجید ایمان و عقیدے کے سلسلے میں ’’تعبد‘‘ کو کافی نہیں سمجھتا ، اسی لیے اُس نے اُصول دین میں تحقیق کو واجب قرار دیا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ موجود ہے ، وہ ایک ہے ، حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، ان مسائل پر تحقیق کے بعد ہی ایمان لانا چاہیے۔
ہماری خواہش ہے کہ ہر شیعہ مرد و زن اس مختصر کتاب کو پڑھے تاکہ وہ اپنے مذہب کے عقائد سے اجمالی طور پر واقف ہو سکے اور ان عقائد سے اس حد تک واقف ہونا ضروری بھی ہے اور کافی بھی ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ جن مقاصد کا تذکرہ اس کتاب کے مقدمہ میں کیا گیا ہےان کے حصول میں یہ کتاب مفید ثابت ہوگی اور آخرت کے لیے ایک ذخیرہ قرار پائے گی۔ انشاء اللہ