شریعت کے احکام

کتاب کا تعارف:

دین اسلام کی مثال ایک عمارت کی سی ہے۔ اسلام کی عمارت جن بنیادوں پر قائم ہے وہ توحید ، عدل ، نبوت ، امامت اور قیامت پر ایمان ہے اور ان کو اصولِ دین کہا جاتا ہے۔اصولِ دین کو دین کی جڑیں اور فروعِ دین کو دین کی شاخیں بھی کہا جاتا ہے۔اسلام اللہ تبارک و تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ دین اسلام پر عمل کرنا انسان کی نجات کا ضامن ہے۔ عمل کے بغیر کوئی شخص کسی چیز کا حق دار نہیں بن سکتا۔ جنت کا  حق دار بننے کے لیے دین کے احکام پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔

            اللہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئےنبی بھیجتا ہے اور اُن پر کتابیں اتارتا ہے۔ نبی اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان رابطہ کار ہوتا ہے اور اللہ کی کتابوں میں دیئے گئے احکام بندوں تک پہنچاتا ہے تاکہ بندے فروعِ دین پر عمل کر کے دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر یں۔

            فروعِ دین سے متعلق عبادات کو ’’ اسلامی فقہ‘‘ میں بدنی عبادات کہا جاتا ہے اور ان کا مقصد آخرت میں ثواب حاصل کرنا یا آخرت میں عذاب سے بچنا ہوتا ہے۔ عبادات کو قربِ الٰہی کی نیت سے ادا کرنا چاہیے ورنہ وہ درست نہیں ہوتیں جیسے نماز، روزہ، حج اور جہاد وغیرہ۔جن احکام کا تعلق دنیا میں فائدہ اٹھانا یا دنیا میں نقصان سے بچنا ہوتا ہے اُن کو ’’معاملات ‘‘کہا جاتا ہے اور یہ بھی فروع دین کا حصہ ہیں۔

            فروعِ دین اسلام کا عملی پروگرام ہے جس میں ’’کیا کرنا ہے‘‘ اور ’’کیا نہیں کرنا ‘‘ بتایا جاتا ہے۔ بالغ ہونے کے بعد جو احکام ایک انسان کے ذمے لگائے گئے ہیں وہ تکلیفی احکام کہلاتے ہیں کیونکہ ان احکام کو بجا لانے کا وہ پابند ہوتا ہے  اور اُس انسان کو مُکَلَّف کہا جاتا ہے۔ احکام کی قسمیں یہ ہیں : واجب ، حرام ، مستحب ، مکروہ          اور مباح۔ آخرت میں ہماری نجات کا باعث وہ اچھے اعمال ہوں گے جن کی بنیاد ایمان پر ہو گی۔

            اس کتاب میں آپ شریعت کے احکام یعنی فروع دین کے بارے میں کچھ باتیں سیکھ سکیں گے جن کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ امید ہے کہ آپ اُن کو اچھی طرح زبانی یاد کریں گے اور اُن پر خلوص دل سے عمل کریں گے۔

             دین کے احکام پر عمل کرنے کے لیے علم فقہ کا جاننا لازمی ہے۔ہم لوگ جو شرعی علوم کے ماہر نہیں ہیں ہمیں چاہیے کہ کسی مجتہد کی تقلید کریں یعنی بلا دلیل اُس کے قول کو مانیں کیونکہ وہ شرعی علوم کا ماہر ہوتا ہے اور شریعت کے بنیادی ماخذ سے دین کے احکام بیان کرتا ہے۔ جس مجتہد کی تقلید کی جائے اسے ’’مرجع تقلید‘‘ کہتے ہیں اور تقلید کرنے والے کو’’ مقلد ‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ کہ تقلید غیر قطعی فرعی احکام تک محدود ہے۔دین کے قطعی مسائل مثلاً نماز، روزہ ، حج اور زکات کا واجب ہونا، امر بالمعروف ، نہی عن المنکر کے واجب ہونے اور ظلم ، جھوٹ ، خیانت ، غیبت ، شراب اور جوئے وغیرہ کے حرام ہونے کے بارے میں تقلید کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جو شخص نیکی کو پسند اور برائی کو ناپسند کرتا ہے وہ صاحب ایمان ہے اور جو شخص برائی کو ناپسند نہیں کرتا وہ صاحب ایمان نہیں ہے اور جب وہ صاحب ایمان نہیں ہے تو پھر وہ شفاعت کا حق دار بھی نہیں ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسی نے عرض کیا : ’’ مولا ! میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا آپ سے حلال اور حرام کے بارے میں پوچھے اور جو چیز ضروری نہیں وہ نہ پوچھے۔ ‘‘ آپ نے فرمایا : ’’کیا لوگوں سے حلال اور حرام سے بہتر بھی کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاسکتا ہے ؟ ‘‘ (المحاسن)

پس ہمیں چاہیے کہ جہنم سے بچنے اور جنت کا حق دار بننے کے لیے خالص ایمان کے ساتھ دین کے احکام پر عمل کریں۔