قرآن کتاب جاوداں
مصنف کا تعارف:
ڈاکٹر سید محمد علی ایازی ۱۹۵۴ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے تقریباً ۲۴ سال کی عمر میں مشہد میں حوزوی تعلیم کا آغاز کیا۔ سطحیات کی تکمیل کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے قم چلے آئے اور یہاں آیت اللہ محقق داماد ، آیت اللہ فاضل لنکرانی ، آیت اللہ ستودہ اراکی اور آیت اللہ سلطانی کے دروس میں شرکت کرنے لگے۔ آپ نے آیات عظام وحید خراسانی ، آقا موسیٰ زنجانی اور فاضل لنکرانی کے درس خارج کا دورہ بھی مکمل کیا۔
آپ نے آیت اللہ منتظری اور شیخ جواد تبریزی سے ۱۵ سال تک فقہ پڑھی۔ آپ نے فلسفہ کی ابتدائی تعلیم اگرچہ آیت اللہ حسن زادہ آملی سے حاصل کی مگر آیت اللہ جوادی آملی کی سرپرستی میں فلسفہ اور عرفان کے اعلیٰ مدارج طے کئے۔ آپ نے اُن سے ملا صدرا کی اسفار اربعہ ، ترکاہ ای کی تمہید القواعد اور ابن عربی کی فصوص الحکم کی شرح پڑھی۔ آپ نے سید جلال الدین آشتیانی سے بھی فلسفہ اور عرفان کا درس لیا۔ حوزہ علمیہ قم میں دوران تعلیم آپ نے قرآن کی تفسیر اور تحقیق میں گہری دلچسپی لینی شروع کی تھی۔ چند سال بعد آپ نے خود تفسیر کا درس دینا شروع کیا۔ اس دوران آپ رسالوں میں مقالے لکھتے اور علمی مذاکروں میں شرکت کرتے رہے البتہ آپ کی تحقیق کا محور قرآن اور قرآنی علوم ہی رہے۔ آپ نے شہید مطہری کے درس فلسفہ میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ ۱۹۷۶ء تا ۱۹۷۸ء آپ تحقیقی کاموں میں شہید مطہری کے ہمکار رہے۔ آپ دسیوں مقالات سمیت تیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔
کتاب کا تعارف
قرآن کتاب جاوداں،قرآن اثری جاویداں کا اردو ترجمہ ہے۔یہ کتاب اگرچہ انتہائی مختصر ہے مگر اس میں بڑے اہم موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ اس کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کے مختلف پہلوؤں کو سادہ ترین الفاظ میں بیان کیا جائے اور خصوصیات و علوم قرآن کے مفاہیم کی تشریح کی جائے۔
اما م علی فرماتے ہیں: ’’ قرآن ایسی کتاب ہے جس میں تم سے پہلے کی خبریں ، تمہارے بعد کے واقعات اور تمہارے موجودہ حالات کے لیے احکام ہیں۔ ‘‘ آپ مزید فرماتے ہیں:’’ یاد رکھو ! قرآن ایسا ناصح ہے جو فریب نہیں دیتا ، ایسا رہنما ہے جو بےراہ نہیں کرتا اور ایسا بیان کرنے والا ہے جو جھوٹ نہیں بولتا۔ جو بھی قرآن کا ہم نشین ہوا وہ ہدایت کو بڑھا کر اور گمراہی کو گھٹا کر اس سے جدا ہوا۔ جان لو ! قرآن کے بعد مزیدکسی دستور حیات کی ضرورت نہیں رہتی اور کوئی بھی قرآن سے (کچھ سیکھنے سے پہلے اس سے) بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ پس جو قرآن کے سوا کسی اور سے ہدایت چاہتا ہے وہ گمراہی کے تاریک سمندرمیں ڈوب جاتا ہے۔ ‘‘
یہ جملےکسی عام انسان کے نہیں بلکہ حضرت علی علیہ السلام کے ہیں جنہوںنے حجاز کے معاشرے پر قرآن کے اثرات کا بچشم خود مشاہدہ کیا تھا اور اُس دور کے معاشرے کو گہری نظر سے دیکھا تھا۔ وہ معاشرہ جو طلوع قرآن کے وقت گمراہی میں سر پٹخ رہا تھا۔ اُس دور میں لوگ گمراہی ، نادانی ، کینے اور اختلاف کی آگ میں جل رہے تھے ۔ ان کو معلوم نہیں تھا کہ انھیں کیا کرنا ہے اور کس سے اور کہاں پناہ لینی ہے۔ ایسے حالات میں قرآن کی آزادی بخش آواز بلند ہوئی اور اُس نے انسان کو جہالت ، کفر اور شرک سے آزادی کی نوید سنائی اورظلم ، جہالت ، فساد کا مقابلہ کرنے اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کو اپنانے کی دعوت دی۔ یہ قرآن کا کرشمہ تھا کہ جب مسلمانوں نے اسے سینوں سے لگایا اور دلوں میں بسایا بلکہ اسے دستور حیات بنایا تو دیکھتے ہی دیکھتے جزیرہ نمائے عرب میں ایک عظیم انقلاب رونما ہوا اور تہذیب ، تمدن اور آداب معاشرت سے ناواقف لوگ مومن کامل ہو گئے ا ور انھیں ذلت کی بجائے عزت ملی اور کمزوری کی بجائے طاقت و قوت نصیب ہوئی۔
امید ہے کہ شناخت قرآن کے لیے یہ کتاب ایک اہم قدم ثابت ہوگی اور علوم قرآن کے متلاشی کو اس سے قرآن فہمی میں کافی مدد ملے گی۔
اِن شاء اللہ