تاریخ فقہ جعفری
مصنف کاتعارف:
علامہ سید ہاشم معروف حسنی ۱۹۱۹ء میں جنوبی لبنان کے شہر صور (Tyre) کے ایک گاؤں جناتا میں پیدا ہوئے۔آپ حوزہ علمیہ نجف اشرف میں اپنے زمانے کے نابغہ روزگار فقہاء آیت اللہ العظمیٰ سید حسین حمامی ، آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم طباطبائی ، آیت اللہ العظمیٰآقا سید جمال گلپائیگانی اور آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد حسین کاشف الغطاء سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لبنان واپس آئے اور وہاں فقہ جعفری کی شرعی عدالت میں جج مقرر ہوگئے۔ آپ تاریخ اسلام اور ائمہ اہلبیت علیہم السلام کی سیرت کے ایک ماہر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ آپ نے مکتب تشیع کی تبلیغ اور دفاع کے لیے بے مثال تحقیقی کام کئے اور بین التشیع والتصوف اورالشیعہ بین الاشاعرہ والمعتزلہ جیسی معرکۃ الآراء کتابیں لکھیں۔علامہ سید ہاشم معروف کی دیگر کتابوں کے نام یہ ہیں :
)۱(المبادی ء العامۃ للفقہ الـجعفری )۲(نظریۃالعقد فی الفقہ الـجعفری
(۳)الشیعۃ بین الاشاعرہ والمعتزلۃ (۴)ولایۃ القاضی فی الفقہ الاسلامی
(۵)المسؤولیۃ الـجزائیۃ (۶)الموضوعات فی الآثار والاخبار
(۷)دراسات فی الکافی للکلینی والصحیح للبخاری (۸)سیرۃ المصطفیٰﷺ
(۹)بین التشیع والتصوف (۱۰)تاریـخ الفقہ الـجعفری
(۱۱) عقیدۃ الشیعۃ الامامیۃ
ان میں سے علامہ صاحب کیآخری چار کتابیں اردو زبان میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔
کتاب کاتعارف:
تاریخ فقہ جعفری علامہ ہاشم معروف کی عربی کتاب تاریـخ الفقہ الـجعفری کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ فقہ جعفری کی تاریخ پرلکھے جانے والی پہلی کتاب ہے۔
فقہ کی تاریخ کے مفید ہونے میں کوئی کلام نہیں کیونکہ اس کے ذریعے سے فقہاء کی کوششوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس علم نے کیسے ترقی کی اور کس طرح آہستہ آہستہ درجۂ کمال تک پہنچا۔فقہ اسلامی کی تاریخ ایک جدید علم ہے۔ اس کی تاریخ زیادہ طویل نہیں۔ اہل مغرب نے مذاہب اور علوم کی تاریخ مرتب کرنے کے کام کا آغاز کیا ۔مغربی مفکرین کو اعتراف ہے کہ شیعہ علماء نے فقہ کو نئی زندگی بخشی ہے اور اس کو ترقی دے کر جمود سے نجات دلائی ہے۔مشہور جرمن مستشرق گول ڈزیہر (Ignaz Goldizher 1850-1921) اپنی کتاب ’’عقیدہ اور شریعت‘‘ میں کہتا ہے:
’’اسلام کے علمی اور روحانی مباحث کو بارآور بنانے میں شیعوں کی برتری مسلّم تھی اور اب بھی مسلّم ہے۔ اسی طرح کی تیز کارروائی مذاہب کو جمود سے اور خشک سانچوں میں ڈھلنے سے محفوظ رکھتی ہے۔‘‘
اسی نکتے کو علامہ سید ہاشم معروف نے ناقابل تردید دلائل سے ثابت کیا ہے۔ انہوں نے بڑی تفصیل سے فقہ کی سرگزشت بیان کی ہے اور امام علی علیہ السلام کے زمانے سے لے کر امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے تک فقہی احکام کے شیعہ راویوں کا ان کے زمانے کی ترتیب کے لحاظ سے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے احکام الٰہی کے استخراج اور استنباط کے طریقے اور ان کے ماخذوں کے بارے میں بھی مدلل اور مفصل بحث کی ہے۔
اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ مصنف نے اس اہم کام کو نہایت عمدگی سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے کیونکہ ایک طرف انہیں فقہی مسائل اور ان کے ماخذ سے وسیع واقفیت ہے اور دوسری طرف وہ تمام احادیث اور اقوال کو دیانت داری سے بیان کرتے ہیں۔ وہ فقہ اور اصول فقہ پر پوری طرح حاوی ہیں اور اپنی تیز اور گہری نظر سے مسائل کا تجزیہ کرتے ہیں۔
یہ کتاب پوری تحقیق و تدقیق سے لکھی گئی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ یہ کتاب اہل فکر و دانش کے لئے اچھا مواد مہیا کرے گی ۔ انشاء اللہ