حیات پنجتن
تعارف:
حیات پنجتن،کا عربی زبان سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
اس کتاب میں بالترتیب رسول اعظمﷺ ، پھر امام علیؑ، جناب سیدہ فاطمۃالزہا سلام اللہ علیہا، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی حیات مبارکہ کو خوب صورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش ، لکھنے والے کے لیے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے کیونکہ حیاتِ رسولؐ ایسا وسیع صحیفہ ہے جو نہ کسی طرح سمیٹا جا سکتا ہے نہ چھوٹا کیا جا سکتا ہے لہٰذا اس کے درمیان سے بس چند صفحات ہی کو پیش کیا جا سکتا ہے۔حیاتِ مصطفیٰ ﷺ وہ عظیم زندگی ہے جس کے ہر گوشے سے عظمت و جلال اور بے نظیر اعجاز کے سرچشمے پھوٹتے ہیں۔ ایسی زندگی جس میں نصرت و قوت ، خشوع و خضوع ، تقویٰ ، مشکلات و مصائب اور جواں مردی و ہمدردی سب کے جلوے یکجا نظر آتے ہیں۔ اس باب میں سیرتِ طیبہ کے تین حصے پیش کیے گئے ہیں :
پہلا حصہ رسول اکرم ﷺ کی مکی زندگی یعنی دعوت الی الحق سے پہلے اور اس کے بعد پر مشتمل ہے۔دوسرا حصہ آنحضرت ﷺ کی مدنی زندگی پر ، اجتماعی قیادت اور سیاسی مہمات کی حیثیت سے بیان کیے گئے ہیں۔ تیسرے حصے میں آنحضرت ﷺ کا طریقۂ عبادت، آنحضرت ﷺ کا سلوک اپنے خاندان والوں اور امت کے لوگوں سے، عقل و فکر انسانی کے لیے آنحضرت ﷺ کی بیش بہا خدمات پر بقدر امکان روشنی ڈالی گئی ہے ۔
حیات امام علیؑ کے متعلق پہلے باب میں ، عہد رسولؐ اور عہد خلفاء میں امیرالمومنینؑ کے کردار کو پیش کیا گیا ہے۔دوسرے باب میں حیات امامؑ کے اس دور سے متعلق بحث کی گئی ہے جس میں آپ ظاہری طور پر بھی ’’ امامت المسلمین ‘‘ کے عہدے پر فائز تھے اور اس زمانے میں آپ نے سیاست ، تدبیر مملکت ، اقتصادی ، مالیاتی ، معاشرتی اور صلح و جنگ کے بارے میں بہترین اسلامی نمونے پیش کئے۔ جہاں تک تیسرے باب میں امیرالمومنینؑ کی شخصیت کو آپ کے اللہ اور اس کے بندوں کے ساتھ آپ کے تعلق کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ نیز آپ نے امتِ مسلمہ اور تمام پوری انسانیت کو علم و فکر اور عقائد کے میدان میں جو بیش بہا علمی جواہر عطا کئے ہیں ان کا ذکر ہے۔
حیات جناب سیدہ فاطمۃالزہراسلام اللہ علیہا کے متعلق آپ کے بچپن، بحیثیت دختر، بحیثیت بیوی، بحیثیت ماں،کے سیرت طیبہ بیان کی گئی ہے۔اس کے علاوہ دفاع اسلام کی خاطر نبوت و امامت کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہوئےآپ نے جن مصائب و غمگینی کا سامنا کیا اُس پر کچھ روشنی ڈالی گئی ہے۔
حیات امام حسنؑ کے متعلق کتاب و سنت میں امام حسن ؑ کا تذکرہ اور عظیم مرتبہ ، آپ کی شخصیت، روحانی پہلو، علمی پہلو، اخلاقی پہلو بالخصوص تواضع و انکسار، آپ کی سخاوت بیان کرنے کے بعد آپ کی پوری زندی کو دو ادوار میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلا دور امام علی ؑ کے دور سے شروع کیا گیا ہے جب کے دوسرا دور آپ کا منصب امامت پر فائز ہونے کے بعد کا ہے۔ ان دونوں ادوار کا چیدہ چیدہ مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ میں کسی نے ایسے مظالم اور تعصبات کا سامنا نہیں کیا جیسے مظالم اور تعصبات امام علیؑ کو اپنی زندگی میں اور وفات کے بعد پیش آئے۔حضرت علیؑ نے جہاں اپنے بے مثال ، فضائل اور کمالات سے بھرپور زندگی میں طرح طرح کے مصائب اور آلام جھیلے وہیں آپ پر یہ ظلم و ستم بھی ہوا کہ آپ کی شہادت کے بعد ایک طویل عرصے تک سچائی اور انصاف کے ساتھ آپ کی تاریخ حیات بھی نہیں لکھی گئی ،یہ اور بات ہے کہ امیرالمومنین امام علیؑ کی تاریخ کچھ اتنی جان دار اور مبنی برحقیقت ہے کہ کوئی نہیں مٹا سکا کیونکہ امام علیؑ کی تاریخ اسلام کی عزت اور شان و شوکت کی تاریخ سے جدا نہیں ہو سکتی۔ اس کتاب میں یہ ادارہ امام علیؑ کی حیاتِ طیبہ اور اسلام کی عزت و تمدن کے بارے میں آپ کے پاکیزہ دور کا ایک عملی مطالعہ پیش کر رہا ہے۔