دو دست خدا

:مصنف کا تعارف

آیت اللہ شیخ مرتضیٰ رضوی ۱۹۴۰ء میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد آیت اللہ شیخ عباس قلی رضوی اور دادا آیت اللہ شیخ رضا قلی رضوی اپنے زمانے کے نامور فقہاء میں شمار ہوتے تھے۔ استاد مرتضیٰ رضوی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد قم تشریف لے گئے جہاں آپ نے شہید ڈاکٹر مفتح ، شہید استاد مرتضیٰ مطہری ، آیت اللہ فاضل لنکرانی اور آیت اللہ جعفر سبحانی جیسے بزرگ اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ آپ آیت اللہ داماد ، آیت اللہ گلپائیگانی ، آیت اللہ شریعت مداری اور آیت اللہ ملکوتی کے دروسِ خارج میں بھی شریک ہوئے۔

استاد مرتضیٰ رضوی قم سے واپس آنے کے بعد انقلابِ اسلامی کی کامیابی تک اپنے آبائی شہر آذربائیجان میں مختلف سیاسی اور تبلیغی سرگرمیوں میں مشغول ہوگئے۔ آپ نے مغربی فلسفوں کی شناخت اور تنقید نیز مشرقی ادیان (چین اور ہندوستان کے ادیان) کی شناخت کے حوالے سے وسیع تحقیقاتی کام کئے ہیں۔استاد مرتضیٰ رضوی کا ماننا ہے کہ اگر ہم قرآن اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں انسانی علوم کو بیان کریں تو لوگ بلامبالغہ ’’ مکتب امام جعفر صادقؑ ‘‘ کے فریفتہ ہوجائیں گے۔ استاد مرتضیٰ رضوی اس وقت قم المقدسہ میں قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں پُر مغز علمی اور فلسفی کتابیں تحریر کرنے اور طلباء کی تربیت کرنے میں مشغول ہیں۔ مختلف موضوعات پر آپ کے سینکڑوں مقالات شائع ہو چکے ہیں اور تقریباً ۴۰ کتابیں چھپ چکی ہیں۔

 

:کتاب کا تعارف

اِس کتاب میں انتہائی اہم ، بے حد پیچیدہ اور ہمہ گیر موضوع پر بحث کی گئی ہے ۔ مثلاًکہا جاتا ہے کہ ’’ مکتب قرآن و اہل بیت ؑ  نے ہر چیز کو مکمل طور پر بیان کیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اِس مکتب نے قضا و قدر کا مسئلہ وضاحت سے بیان کیوں نہیں کیا ؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ اِس کتاب کے ذریعے ہم اتنے بڑے مسئلے کو حل کریں ؟

زیر نظر کتاب کے مطالعہ سے آپ جان لیں گے کہ’’ مکتب قرآن و اہل بیتؑ ‘‘ نے اِس مسئلے کو مکمل طور پر بیان کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ معاشرہ اِس مکتب کی تعلیمات سے دُور ہو کراِدھر اُدھر نکل گیا۔ کوشش کی گئی ہے کہ اِس بڑے اور پیچیدہ مسئلے کو سادہ اور سلیس انداز میں واضح کیا جائے تا کہ  ایک گریجویٹ طالب علم بھی نفسِ موضوع کو آسانی سے سمجھ سکے۔ یہ کتاب صرف مدارس اور جامعات کے طلباء کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر شخص کے پاس اتنی معلومات ہوں کہ وہ اپنے طور پر اِس لاینحل اور پیچیدہ مسئلے کو حل کر سکے۔

یہ کتاب زینہ بہ زینہ آگے بڑھتی ہے اور اگلا باب پچھلے باب کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے اور ہر باب کے آخر میں اُس کا خلاصہ لکھ دیا گیاہے۔ بہتر ہے کہ قاری اِس کتاب کا مطالعہ کرتے وقت اپنے پاس قلم اور کاپی رکھیں اور جو کچھ سمجھا ہے اُس کا خلاصہ لکھتے جائیں۔ اس طرح سے بہت بڑا معمہ حل ہوجائے گا اور جب معمہ حل ہوجائے تو وہ آسان ہوجاتا ہے۔

اِس کتاب مستطاب کا اُسلوب و انداز اور آغاز و اِختتام اِس موضوع پر آج تک لکھی جانے والی (ہر مذہب و مسلک کی) کتابوں کے مشمولات سے مختلف ہے۔افکار کی دنیا میں راہِ اہل بیتؑ روشن راستہ ، سبیل الرشاد اور صراط مستقیم ہے اور اِس راستے پر چلنے والا کبھی بھٹک نہیں سکتا۔