بنائے کربلا
:کتاب کا تعارف
بنائے کربلا سید جعفر شہیدی کی فارسی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔
اس کتاب میں میں واقعۂ کربلا کی تجزیہ و تحلیل کے بارے میں گزرے ہوئے حالات کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر پرکھا گیاہے اور ایک ہی طرح کے واقعات کا باہم موازنہ کیا گیاہے۔ اس دوران مصنف نیپانچویں صدی سے عصر حاضر تک کی کتابوں سے بھی رجوع کیا ہے۔ اسی طرح عہد خلفاء کے خاتمے تک اسلام کے سیاسی اور معاشرتی حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کتابوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا جو اس سلسلے میں بعض مغربی مؤرخین نے لکھی ہیں۔
محرم ۶۱ھ کا واقعہ ان متعدد واقعات میں سے ایک ہے جن کی اصل وجہ یا وجوہات کی جستجو کرنی چاہیے اور یہ تحقیق بھی اس حادثے کے وقوع پذیر ہونے کے سال یا اس سے چند سال پیشتر تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ ممکن ہے کہ جب اس خونیں داستان کی تحقیق کریں تو ہمیں حضرت ابوبکرؓ کی خلافت اور ظہورِ اسلام بلکہ رسول اکرم ﷺ کی پیدائش سے بھی کئی سال پہلے تک کے زمانے کی طرف لوٹنا پڑے کیونکہ یہ حوادث ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس کتاب میں حادثۂ کربلا کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیں اور ایک ایسے نتیجے پر پہنچیں جس سے ہم خود مطمئن ہوجائیں اور پھر ممکن ہوگا کہ قارئین بھی ہمارے ساتھ اتفاق کر لیں۔ اگر مجھے اس کام میں کامیابی حاصل ہوجائے تو اس ’’ کیوں ‘‘ کا جواب بھی دیا جا سکے گا، جو واقعۂ کربلا کے بارے میں ہمیشہ لوگوں کے ذہنوں میں موجود رہا ہے۔ اس کا صحیح جواب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم تاریخ کے دو مرحلوں میں اسلامی معاشرے کو صحیح طور پر پہچانیں۔ ایک تو وہ معاشرہ تھا جس کی تشکیل ہجرت کے گیارہویں سال میں ہوئی۔ رسول اکرم ﷺ نے اپنی وفات سے چند ماہ پہلے اللہ کا یہ فرمان پڑھ کر سنایاکہ:’’ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہوگئے ہیں ، پس ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔‘‘ (سورۂ مائدہ: آیت ۳(
یہ وہ معاشرہ تھا جن کے لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایاتھا:’’ اے لوگو! میں تمہارے درمیان دو اہم چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے ایک خدا کی کتاب اور دوسری میری عترت ہے۔‘‘ ہمیں چاہیے کہ پہلے ان عناصر کو پہچانیں، جنھوں نے وہ معاشرہ تشکیل دیا تھا، پھر اس کا مقابلہ ۶۰ھ (معاویہ کی موت کے سال) میں موجود معاشرے سے کریں اور دیکھیں کہ جن عناصر نے نصف صدی پہلے کا معاشرہ تشکیل دیا تھا آیا انھوں نے کوئی ترقی کی یا منجمد ہو کر رہ گئے یا کچھ کمزور ہوگئے تھے؟ یعنی معاویہ کی موت کے وقت کے مسلمان حضرت ابوبکرؓ کی ابتدائے خلافت کے مسلمانوں سے مقابلتاً کیا نسبت رکھتے تھے؟کیا ان کے ایمان میں اضافہ ہوگیا تھا یاوہ متزلزل ہوگئے یا بے ایمان ہوگئے تھے؟ اگر وہ متزلزل یا بے ایمان ہوگئے تھے تو کون سے عوامل ان کے تزلزل یا بے ایمانی کا سبب بنے؟ کیا یہ عوامل معاویہ اور اس کے زمانے کی پیداوار تھییاپہلے ہی سے مسلمان کے معاشرے میں موجود تو تھے لیکن ان کے لیے نشوونما پانا ممکن نہ تھا اور جونہی انھیں ترقی کے لیے مناسب ماحول ملا اور وہ پھلے پھولے اور انھوں نے کافی طاقت حاصل کر لی، یہ وہ غیر واضح نکات ہیں جن کا تجزیہ کرنا نہایت ضروری ہے۔
ہمیں امید ہے کہ تاریخ اور تحقیق سے سے شغف رکھنے والے غیر متعصب افرادکے لیے یہ کتاب گراں قدر سرمایہ ثابت ہوگی۔ انشائاللہ