گفتار عاشورا

:کتاب کا تعارف

            گفتار عاشورا کا فارسی سے اردو ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب دراصل پانچ مجالس کا مجموعہ ہے۔ جو آج سے تقریباً بیس پچیس سال قبل تہران میں عشرہ محرم میں کی گئی تھیں۔ یہ وہ تقاریر ہیں جو آج بھی زندہ و جاوید ہیں۔ ایسی ہی علمی اور انقلابی تقریروں نے ایران کے مسلمانوں میں اسلامی فکر کو دوبارہ زندہ کیا اور ان میں ایک نئی روح پھونک دی۔ انہوں نے حضرت سیدالشہداء کی ذات والا صفات سے الہام حاصل کرتے ہوئے جبرو استبداد اور عالمی استکبار کے خلاف تاریخی جدوجہد کر کے ایک عظیم اسلامی انقلاب برپا کیا۔

            پہلی مجلس ڈاکٹر ابراہیم آیتی کی ہے ۔ اپنی تقریر میں ڈاکٹر صاحب نے جہاد حسینی کے اسباب بیان کیے ہیں۔

            دوسری مجلس کامیاب جدوجہد کے عنوان سے ڈاکٹر حسینی بہشتی کی ہے۔

            تیسری مجلس میں استاد محمود موسوی نے جہاد و شہادت پر روشنی ڈالی ہے۔

چوتھی مجلس ڈاکٹر ابراہیم آیتی کی ہے ۔ اپنی تقریر میں ڈاکٹر صاحب نے امام حسین ؑ کے قیام کے محرکات بیان کیے ہیں۔

پانچویں مجلس استاد مرتضیٰ مطہری کی ہے۔ آپ نے خطبہ اور منبر کے عنوان سے حسب روایت ایک مؤثر اور جاندار تقریر فرمائی ہے۔

اسلام جس کی خاطر امام حسین نے شہادت پیش کی ایک موہوم نظریہ نہیں بلکہ روئے زمین پر نافذ العمل ہونے والا ایک مکمل نظام ہے۔ وہ ایک ایسا مسلم معاشرہ تشکیل دیتا ہے جو لوگوں کی تمام ضرورتوں کی کفالت کرتا ہے، ان کے انسان شرف کا تحفظ کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سنوارتا ہے۔ کربلا کی آفاقیت اور اس کی انسانیت ہی ہے جس نے اسے دوام بخشا اور یہ آج تک لوگوں کے ضمیروں، دماغوں اور خیالوں میں جاگزیں ہے اور اس کی رہنمائی ان اعلیٰ دینی اقدار کی طرف کرتی ہے جو انسان کو اپنی ذات کے تنگ دائرے سے نکال کر پورے معاشرے کی عزت، سلامتی اور مستقبل کے لئے سعی اور عمل کے میدان میں لاکھڑا کرتی ہے۔

            کربلا میں انسانیت کے نمایاں پہلو کے تحت آج بھی ہر انسان اور ہر جماعت کے لئے ایک کربلا بپا ہے۔ آج انسان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے کہ یا تو وہ عقیدئہ توحید پر رہتے ہوئے اللہ کے بھروسے پر مشرق و مغرب سے منہ موڑلے اور اپنے نفس کے خلاف جنگ کر کے تقرب الٰہی کی خاطر مستضعفین کی حمایت کرے، دین کی پاسداری کرے، اخوت، محبت اور وحدت کو اپنا شعار بنائے اور اسلام کو سربلند کرے یا پھر طاغوت کے تابع فرمان ہو جائے، ظلم، خیانت، تعصب اور افتراق کا راستا اپنائے۔ بہرحال ہم میں سے ہر ایک اپنی روش کے تعین میں اسی دوراہی پر کھڑا ہے۔

کربلا اسلام اور انسانیت کے لئے عظیم قربانی اور گراں قدر خدمات کے تسلسل میں اسلامی اقدار کی ایک روشن مثال پیش کرتی ہے۔درسگاہ کربلا کے سبق کو عام کرنے کے لئے اور حضرت سیدالشہداء کی تحریک کے مقاصد کو اجاگر کرنے کے لئے عشرئہ محرم میں ایسی علمی اور انقلابی تقریروں کی ضرورت ہے جو آج کے پرآشوب دور میں اعلائے کلمۃ الحق کرے ۔

اس کتاب میں موجود علمائے حق کی تقاریر اعلائے کلمۃ الحق کرتی نظر آئیں گی۔ انشاءاللہ