اسلام دین معرفت
تعارف:
کتاب اسلام دین معرفت ، کوفارسی زبان سے ترجمہ کیا گیاہے۔ اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں اسلام کے احکام مقالوں کی شکل میں قرآن مجید اور محمد و آل محمد کی زبانی پیش کیے جائیں۔ بحث کے دوران مختلف اسکالروں کے نظریات بھی نقل کیے گئے ہیں تاکہ ہمیں پتہ چل جائے کہ جو احکام پیشوایان اسلام نے چودہ سو سال قبل دیے تھے دنیا کے اہل علم نے سال ہا سال مطالعے کے بعد ان کی افادیت سمجھ لی ہےاور یہ بھی واضح ہو جائے کہ ہم مسلمان کس قدر گراں بہا علمی سرمائے کے مالک ہیں۔
اسلام کی تعلیمات میں انسان کی تمام ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ہے اور ہر موقع محل کے مطابق کافی اور مکمل احکامات دیے گئے ہیں۔ اسلام ایک زندہ دین ہے ۔ یہ ایک ایسا آب حیات ہے جو اقوام کو زندگی بخشتا ہے اور ان کی نجات اور ترقی کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اسلام کے قوانین چونکہ کسی انسانی دماغ کی اختراع نہیں ہیںاس لیے ان کی افادیت کسی ایک دور یا ایک مقام تک محدود نہیں۔
اسلام کی تعلیمات میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں جو علم اور عقل کے معیار پر پورا نہ اترتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دین سائنسی ترقی کے پہلو بہ پہلو پیش قدمی کرنے اور اپنی شان و شوکت اور عظمت کو زیادہ سے زیادہ اُجاگر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
موجودہ نسل ان گو ناگوں علمی خیالات اور نظریات سے واقف ہے جو اُسے مشرقی اور مغربی ممالک سے بہم پہنچائے جا رہے ہیں اور مختلف فلسفیانہ مکاتب سے بھی اس کا رابطہ ہے لہٰذا وہ اپنی تعلیمات کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتی ۔ وہ چاہتی ہے کہ جہاں اُس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے وہاں اُس کے اعتقادات بھی روحانی قدر و قیمت کے لحاظ سے اس تعلیم کے ہم پلہ یا اس سے مقابلتاً بلند تر سطح پر ہوں۔
جو مذاہب دور حاضر کا یہ تقاضا پورا نہ کر سکیں وہ لازمی طور پر سائنس کی طاقت کے سامنے سر نگوں ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ سے ایک زیادہ زبردست قوت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اگر انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل اپنے ہی مذہب سے برسر پیکار ہوجاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیت صحیح معنوں میں اس کے اطمینان اور نجات کا موجب نہیں ہے۔ بعض عیسائی ایسے بھی ہیں جن کی مذہب سے واقفیت محض واجبی اور ان تعلیمات تک محدود ہے جو انہیں کلیسا اور عیسائیت سے حاصل ہوئی ہیں ان کی مذہب کے بارے میں قنوطیت کا یہ عالم ہے کہ وہ کسی جانچ پڑتال کے بغیر تمام مذاہب سے عداوت پر تل گئے ہیں اور انھیں بے اعتبار اور ناقابل قبول سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ہر مذہب کو عیسائیت کے زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔عیسائیت کے بارے میں تو اُن کا نکتہ نظردرست ہو سکتا ہے مگر دوسرے مذاہب پر ان کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
دور حاضر میں ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں اور اسکالروں کا اسلام پر ایمان ، عمیق اور اساسی اور اسی بناء پر راسخ اور غیر متزلزل ہے کیونکہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ روشن خیال نوجوان دینی تعلیمات کے بارے میںتحقیق اور جستجو کرتے ہیں تاکہ حقیقت کا ادراک کرکے دلی اطمینان سے بہرہ ور ہو سکیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عہد حاضر میں نوجوان نسل اور پڑھے لکھے طبقے کی جانب سے حقائق دین کو سمجھنے کی خاطر جس جوش و خروش کا اظہار کیا جا رہا ہے اس کی مثال سابقہ ادوار میں نہیں ملتی۔ جو دینی کتابیں اور مقالے منطقی اور مدلل انداز میں لکھے جائیں اور ہر قسم کی حاشیہ آرائی سے پاک ہوں آج کل ان کے خریدار اور قاری باقی سب کتابوں اور تحریروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک میں اسلامی کتابوں کی اشاعت اور لوگوں کا قبول اسلام اس بات کی بین دلیل ہے۔ ان ہی خصوصیات کی حامل یہ کتاب تمام مسلمانوں خاص کر ان نوجوانوں کے لیےبہترین سرمایہ ثابت ہو گی جو دین اسلام سے شغف رکھتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کی معرفت چاہتے ہیں۔ ان شاء اللہ