تاریخ عاشورہ
:کتاب کا تعارف
تاریخ عاشورہ ڈاکٹر ابراہیم آیتی کی فارسی کتاب بر رسی ہائے تاریخ عاشورہ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں تحریک کربلا کے پس منظر و پیش منظر کا محققانہ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
کربلا تاریخ انسانی کا ایک فقید المثال واقعہ ہے۔ محرم الحرام ۶۱ھ کی دسویں تاریخ کو ابو عبداللہ امام حسین علیہ السلام نے جو عظیم الشان قربانی پیش کی اور جس صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا وہ ہر اس شخص کے لیے مشعل راہ ہے جو اپنی تحریک پر کامل یقین رکھتا ہو اور اس کی کامیابی کا خواہاں ہو۔ آپ نےپنے عزم و استقلال کی بدولت تمام بنی نوع انسان کو رہتی دنیا تک ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ جب انسان اس محیر العقول جنگ کے حالات پڑھتا ہے تو اس کے دل میں طرح طرح کے سوالات ابھرتے ہیں جن میں سے ایک غور طلب اور اہم سوال یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے جو غیر معمولی اقدام کیا اس کا اصل منشا کیا تھا۔ آیا وہ یزید کی بیعت سے گریزاں تھے؟ کیا انھوں نے کوفیوں کی درخواست پر یہ قدم اٹھایا تھا یا ان کے قیام کا مقصد آج کل کی اصطلاح میں انقلاب لانا تھا؟
انھیں یہ معلوم تھا یا نہیں کہ وہ قتل کردیئے جائیں گے؟ آیا ان کے ذہن میں پہلے سے طے شدہ کوئی پروگرام تھا جس کے مطابق وہ عمل کررہے تھے یا وہ ہر صورت حال کے متعلق وقت کے وقت فیصلہ کرتے تھے؟ راستے میں مسلم بن عقیل علیہ السلام کی شہادت کی خبر ملنے پر انھوں نے اپنے ہمراہیوں سے کیوں کہا کہ تم چلے جاؤ اور مجھے تنہا چھوڑدو اور پھر بعد میں امداد کیوں طلب کی؟ شب عاشورا میں سب کو چلے جانے کو کیوں کہا؟ حبیب ابن مظاہر کو قبیلۂ بنی اسد سے مدد طلب کرنے کیوں بھیجا؟ عبیداللہ بن حر جعفی سے قصر بنی مقاتل میں کیوں مدد مانگی؟ شب عاشورا میں فرزندان عقیل سے یہ کیوں کہا کہ تم چلے جاؤ کیونکہ یہی کافی ہے کہ مسلم مارے گئے؟
ضحاک بن عبداللہ مشرقی اس کے دوست زہیر بن قین سے مدد کے لیے اصرار کیوں کیا اور یہ کیوں کہا کہ تم آخر دم تک میرے ساتھ رہو؟ کیا ان کا اقدام اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا نہیں تھا؟ جس آدمی کو معلوم ہو کہ وہ سر کٹوانے جارہا ہے کیا وہ اپنے زن و فرزند اور شیرخوار بچوں کو بھی اپنے ساتھ مرنے کے لیے لے جاتا ہے؟
ان سوالوں کے جواب میں بہت سی بے بنیاد، غلط اور واہی تباہی باتیں کہی گئی ہیں۔ کچھ نے کہا ہے کہ چونکہ امام حسین علیہ السلام یزید کی بیعت کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے وہ خوف کی وجہ سے یہ سمجھ کر مدینے سے مکہ چلے آئے کہ مکہ جائے امن ہے۔ آپ وہیں قیام کرنا چاہتے تھے لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ اہل کوفہ نے انھیں بلاوے پر بلاوا بھیجا اور بھرپور امداد کا یقین دلایا۔ آپ کو خود بھی اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی کعبہ کی حرمت کو نظر انداز کر کے حملہ ہی نہ کر بیٹھے۔ لہٰذا آپ نے اہل کوفہ کی دعوت قبول کرلی اور کربلا کی طرف روانہ ہوگئے۔ مگر حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ آپ خود بھی قتل ہوئے، آپ کے فرزند بھی مارے گئے اور آپ کے اہلبیت علیہم بھی اسیر ہوئے۔کچھ دوسرے لوگ سمجھتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ انجام ہوگا۔ ورنہ وہ ہرگز ایسا اقدام نہ کرتے۔
دراصل ان تمام سوالات کا صحیح جواب یہ ہے کہ معاویہ کے دور حکومت کی ابتدا ہی سے کچھ ایسے اسباب پیدا ہوگئے تھے کہ اس تحریک کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات کی شدت میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔ شدہ شدہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اگر امام حسین علیہ السلام یہ قدم نہ اٹھاتے تو ڈر تھا کہ خود دین اسلام خطرے میں پڑ جاتا۔
تحریک کربلا سے متعلق درج بالا سوالات کےتاریخی حوالوں کے ساتھ تحقیقی اور مستند جوابات تفصیل کے ساتھ جاننے کے خواہش مند حضرات کے لیے یہ کتاب بہترین انتخاب ثابت ہوگی۔ یقیناً تحریک کربلا کوئی قصہ پارینہ نہیں بالکل آج بھی زندہ و جاوید تحریک اور انقلاب کا نام ہے ۔آج بھی اگر کوئی خلافت و ملوکیت میں فرق کو جاننا چاہتا ہو تو اسےبنظر عمیق تاریخ عاشورہ کا مطالعہ کرنا ہوگا ۔ یہ کتاب اس سلسلے میں بہترین رہنما ثابت ہو گی۔ انشاءاللہ