فلسفہ دین
:مصنف کا تعارف
آیت اللہ سید کمال حیدری سن ۱۳۷٦ھ بمطابق ۱۹۵٦عیسوی کو کربلا معلیٰ کے ایک علمی اور روحانی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔آپ نے اسلامی تعلیم کا بقاعدہ آغاز کربلا معلٰی سے کیا اور اس ابتدائی مرحلے میں آپ نے الشیخ حسین نجل اور علامہ الشیخ علي العيثان الاحسائی سے کسب فیض کیا اور مزید تعلیم کے لیے نجف اشرف جانے کا فیصلہ کیا ۔ نجف میں سطوح عالیہ کی تعلیم کا آغاز کیا اور اس مرحلے میں آیت اللہ سید محمد تقي الحکيم(رہ) اور آیت اللہ سید شہید عبد الصاحب الحکیم(رہ) جیسے علما کے دروس میں شرکت کی جس کے بعد آپ نے آیت اللہ سید شہید باقر الصدر (قدس اللہ سرّہ) ، آیت اللہ سید ابو القاسم موسوی الخوئی (قدس اللہ سرّہ) ،آیت اللہ شیخ مرزا علی الغروي (قدس اللہ سرّہ) اور آیت اللہ سید نصر اللہ المستنبط(قدس اللہ سرّہ) جیسے عظیم فقہاء کے درسوں میں شرکت کا آغاز کیا ۔ شھید باقر الصدر کی شخصیت نے آپ پر گہرے اثرات مرتب کیے اور آپ کےاندر جو علم اور فِکر کی نادر یکجائی نظر آتی ہے اس کے پیچھے یہی چیز کارفرما ہے۔
آپ نےعلم اصول ،علم فقہ ، علم حدیث و درایہ ، علم فلسفہ و کلام ، تفسیر قرآن کریم اور ادبیات کی تدریس کے ساتھ ساتھ ان موضوعات پر منفرد انداز میں قلم بھی اٹھایا ہے ۔آپ گزشتہ ایک دہائی سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے مختلف پروگراموں میں عقلی اور نقلی ادّلہ کے ذریعے مکتب اہل بیت (ع)کی حقانیت کو ثابت کرنے اور وہابیت جیسے منحرف فرقوں کے شبہات کو رد کرنے کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے سامنے ان کے حقیقی چہروں سے پردہ فاش کر رہے ہیں ۔
اسلامی تعلیمات سے گہری اور دقیق آشنائی کے سبب آپ نے اس پر آشوب دور میں اسلامی تعلیمات اور افکار کی ترجمانی کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے مرجعیت کا اعلان کیا ہے ۔اس ضمن میں آپ نے تشیع کے فکری ، معاشی ، سیاسی اور ثقافتی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے عالمی تناظر میں ولایت اجتماعی کا نظریہ پیش کیا ہے۔
:کتاب کا تعارف
فلسفہ دین آیت اللہ سید کمال حیدری کی عربی کتاب فلسفۃ الدین۔۔۔ کا اردو ترجمہ ہے۔
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ عقل کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ ایک ’’ عقیدہ ‘‘ رکھے ۔ قرآن کریم نے عقیدے کو بڑی اہمیت دی ہے اور ان لوگوں کی سخت مذمت کی ہے جو صحیح عقیدے کے انتخاب کے لیے اپنی عقلوں کو استعمال نہیں کرتے۔ قرآن کریم کی نظر میں انسان کی قدر و قیمت کا معیار اُس کا عقیدہ ہے۔
اس کتاب میں دین اور انسانی زندگی میں اُس کی ضرورت اور آسمانی شریعتوں کے تکامل کی کیفیت کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ کتاب استاد محترم کے اُن لکچرز پر مشتمل ہے جو انھوں نے اپنے طلباء کو دیئے تھے۔ ہم نے ان لکچرز کی جمع آوری کرکے اسے کتابی صورت میں مدون کیا ہے۔
تمہیدی مباحث میں دین کا مفہوم سمجھایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ انسانی زندگی میں اس کی کیا اہمیت ہے۔ نیزدین کے اجرا اور جہان بینی میں اس کا کیا کردار ہے۔ علاوہ بریں دین و عقل اور ایمان و علم و عمل میں اُس کے کردار کی وضاحت کی گئی ہے۔
پہلے باب میں دین اور انبیاؑء کی ضرورت کے دلائل پر بحث کی گئی ہے۔ یہ دلائل اہم مقدمات پر مشتمل ہیں اور ان میں ’’ جزا اور عمل کے باہمی ربط ‘‘ کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ قوانین آخرت پر بحث کی گئی ہے اور تحقق عدالت کی کیفیت کے لیے مادی اور آسمانی نظریات کی وضاحت کی گئی ہے نیز نبوت کے اہداف اور بعثت انبیاؑء کے بنیادی مقصد کے متعلق پائے جانے والے نظریات کی تشریح کی گئی ہے۔
دوسرے باب میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ دین ایک ہے اگرچہ شریعتیں متعدد ہیں اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اسلام تمام آسمانی شریعتوں کا جامع دین ہے۔ اسی طرح آخری شریعت کے امتیازات پر بھی بحث کی گئی ہے اور آسمانی شریعتوں اور فلسفیانہ نظریوں کے فرق کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
المختصر دین کی ضرورت اور آسمانی شریعتوں کا تکامل کے زیر عنوان یہ کتاب آثار علمی میں بہترین اضافہ ثابت ہو گی۔ ان شاء اللہ