فلسفہء احکام
:کتاب کا تعارف
فلسفۂ احکام دنیائے تشیع کے دو جانے پہچانے جید علمائے کرام اُستاد ناصر مکارم۔اُستاد جعفر سبحانی کی علمی کاوش کا اردو ترجمہ ہے۔
اس کتاب میں آیات کی تفسیر، فقہی مسائل اور دیگر سو سے زائد موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ یہ بحث سوال و جواب کی صورت میں پیش کیے گئے ہیں۔ مثلاً ہم اللہ کی عبادت کیوں کریں؟کیا خدا کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا جائز ہے؟سات آسمانوں سے کیا مراد ہے؟دو مشرق اور دو مغرب کہاں ہیں؟قرآن کریم کسی غیر مسلم کو کیوں نہیں دیا جا سکتا؟قرآن مجید میں بعض تکرار کا مقصد کیا ہے؟دینی مسائل میں تقلید کیوں کی جائے؟نماز عربی میں کیوں پڑھنی چاہیے؟نماز آیات کا کیا مقصد ہے؟الکحل سے سے تیار کردہ مشروبات کیوں نجس ہیں؟موسیقی کیوں حرام ہے؟دو خونی رشتوں کا آپس میں شادی کرنا کیسا ہے؟حلالہ کا مقصد کیا ہے؟ایک امریکی مسلمان کے سوالات ،عہد رفتہ میں مسلمانوں کی ترقی اور عصر حاضر میں ان کی پسماندگی کی وجوہات کیا ہیں؟۔۔۔۔ایسے سینکڑوں سوالات اور اُن کے تشفی جوابات موجود ہیں۔
زیر نظر کتاب کے مطالعے سے یہ بات زیادہ روشن ہو جاتی ہے کہ اسلام نے کچھ کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے اور کچھ کاموں کے کرنے سے روکا ہے۔ ان دونوں باتوں کی بنیاد کسی نہ کسی مصلحت پر ہے اور دینی احکام بلاوجہ مقرر نہیں کئے گئے ہیں۔ مثلاً کھانے پینے کی چیزیں، قانونی تعلقات اور بہت سی دوسری باتیں ہیں کہ ان کی ذات میں کوئی نہ کوئی نفع یا نقصان مضمر ہے، چاہے ان کے متعلق کوئی قانون بنایا جائے یا نہ بنایا جائے، ان کے ذاتی اثرات میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ منہیات پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ منشیات اور الکحلی مشروبات بذات خود نقصان دہ ہیں۔ سود محض عوام کے استحصال کے لئے ایک جال ہے لہٰذا شراب اور سود اگر حرام قرار دیئے گئے ہیں تو اس کی وجہ ان کے مضر اثرات ہیں۔ دوسری طرف اگر آپ اوامر پر نظر ڈالیں تو آپ محسوس کریں گے کہ تمام عبادات اور بطور مثال نماز اور زکوٰۃ کے فرض کئے جانے کی وجہ ان کے وہ فوائد ہیں جو اُن سے انسانوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اسلامی احکام کی بنیاد نفع یا نقصان اور خوبی یا برائی پر ہے۔ ان میں سے بہت سی باتوں کو علم اور تجربے سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کی تحقیق یا کسی اسلامی حکم کا فلسفہ معلوم کرنا اور اس کے بارے میں سوال کرنا منع نہیں ہے۔
اس کتاب کے مطالعے سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ’’سوال‘‘ انسان کی حقیقت جوئی اور اس کی سچی روحانی طلب کا بہترین مظہر نیز اس کی ترقی کے لئے ایک کھلا ہوا دروازہ ہے۔ ’’سوال‘‘ مخفی اور نامعلوم باتوں تک رسائی حاصل کرنے کی خاطر انسان کی لگاتار کوشش کا ایک زندہ نشان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ کسی چیز کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے سوال نہیں کرتے وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ’’سوال‘‘ کی اسی افادیت کے پیش نظر دین اسلام، جو انسانی ترقی کے لئے ایک مکمل آئین ہے، نہ صرف اپنے پیروؤں کو مختلف مسائل کے متعلق سوال کرنے کا حق دیتا ہے بلکہ ہادیان اسلام نے بھی بارہا لوگوں کو مختلف علمی مسائل کے بارے میں سوال کرنے کی دعوت دی ہے۔
امید ہے کہ ہماری یہ پیشکش ان لوگوں کے لئے مفید ثابت ہوگی جو اسلامی مسائل کو عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ سمجھنے کے خواہش مند ہیں۔ ان شاءاللہ