تجوید القرآن

:تعارف کتاب کا

تجوید قرآن کا قاعدہ ہر مسلمان معاشرے کی ضرورت ہے۔ تجوید قرآن کریم کو صحیح پڑھنے کا علم ہے۔ یہ علم قرآن کریم کو خوبصورت انداز میں پڑھنے اور کلمات کی صحیح ادائیگی میں معاون ہوتا ہے۔ روایات میں تاکید آئی ہے کہ قرآن کریم کو خوبصورت آواز اور عربی لہجے میں پڑھنا چاہیے اور تلاوت کے دوران اوقاف اور حرکات وغیرہ کا خیال رکھنا چاہیے۔ تلاوت کرتے وقت اس بات کو یاد رکھنا ضروری ہے کہ عربی زبان میں ہر حرف کی آواز الگ الگ ہوتی ہے  اگر وہ صحیح طور پر ادا نہ کئے جائیں تو لفظ کے معنی بدل جاتے ہیں جیسے :

 ذَ لَّ (وہ ذلیل ہوا) زَلَّ (وہ پھسلا) ظَلَّ (ہو گیا)  ضَلَّ (وہ گمراہ ہوا) ۔

امام علی علیہ السلام سے ترتیل کے معنی پوچھے گئے تو آپ نے فرمایا :

حروف کو تجوید کے ساتھ پڑھنے اور اوقاف میں ماہر ہونے کا نام ترتیل ہے۔

            ترتیل کی فضیلت کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ اللہ نے قرآن کریم میں ترتیل کی نسبت اپنی طرف دی ہے۔ نیز اس نے حضور نبیٔ کریم ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ قرآن کریم ترتیل سے پڑھیں ، لوگوں کو بھی ترتیل سے پڑھائیں اور ان کو ترتیل ہی کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیں ۔

نبیٔ کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

 ’’ ترتیل کا مطلب یہ ہے کہ اوقاف اور ادائے حروف کا خیال رکھا جائے۔ ‘‘ آپ ﷺ فرماتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ قرآن جس طرح اترا ہے اسی طرح پڑھا جائے۔ قرآن کو عربوں کے لب و لہجے اور ان ہی کے انداز میں پڑھو۔

            خوب صورت آواز قرآن کے لیے زینت ہے۔ہمیں قرآن کریم اور اہلبیت طاہرینؑ کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں تدبر و تفکر کیا جائے اور جلدی پڑھنے سے گریز کیا جائے۔ تجوید کا اصل مقصد قرآن کریم کے مفاہیم کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہے۔ قرآن کریم کو صرف حسن قرأت کے مقابلوں تک محدود رکھنا اور سامعین کی داد و تحسین حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا مقصد قرآن فہمی ہونا چاہیے لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ قرآن کریم کو اسی طرح پڑھیں جس طرح رسول اکرم ﷺ پڑھتے تھے تو یہ کتاب استاد کی مدد سے اچھی طرح سمجھ لیں اور ان کے مطابق پڑھنے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو قرآن کریم صحیح طرح سے پڑھنے اور اس کے احکام پر خلوص دل سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔