مکتب رسولﷺ

مصنف کاتعارف:

حجۃ الاسلام والمسلمین محسن قرائتی۱۹۴۴ء میں ایران کے صوبہ کاشان کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد اور دادا بھی دینی عالم تھے جو مختلف مقامات پر قرأت قرآن کی محفلیں منعقد کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کا خاندانی نام قرائتی  پڑ گیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم آیت اللہ صبوری سے حاصل کی اور پھر آیت اللہ شیخ علی آقا نقی کے درس تفسیر میں شرکت کی۔ اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے آپ نجف اشرف تشریف لے گئے۔ وہاں سطحیات کا دورہ مکمل کرنے کے بعد قم واپس تشریف لائے اور چند سال درس خارج پڑھا۔ اس طرح آپ مجموعی طور ۱۶ سال حصول علم میں مشغول رہے۔ اسی دوران آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی زیر نگرانی لکھی جانے والی ۲۷ جلدوں پر مشتمل مایہ ناز تفسیر ، تفسیر نمونہ کی مجلس تالیف و تحریر میں شامل ہوئے۔ ابھی تفسیر نمونہ کا نصف کام مکمل ہوا تھا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کا سورج طلوع ہوا۔

انقلاب اسلامی کے بعد آپ نے ٹیلی ویژن پر درس قرآن کے عنوان سے اور کچھ مدت کے بعد ریڈیو ایران پر ’’ آئینۂ وحی  ‘‘ کے عنوان سے تفسیر قرآن کا آغاز کیا جو تسلسل کے ساتھ اب تک جاری ہے۔ آپ نے اپنے چند دوستوں کی مدد سے ان دروس کو ’’ تفسیر نور ‘‘ کے نام سے بارہ جلدوں میں شائع کردیا ہے۔ اس تفسیر کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انتہائی سلیس اور عام فہم ہے۔ اس میں تفسیر قرآن بالقرآن کی روش اپنائی گئی ہے اور اس میں قرآن کا پیغام اور نکات بیان کئے گئے ہیں۔

کتاب کاتعارف:

مکتب رسولؐ استاد قرائتی کی درسہائے از قرآن کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب استاد قرائتی کے ان دروس پر مشتمل ہے جو انھوں نے اوائل انقلاب میں ایرانی ٹیلی ویژن پر دیئے تھے۔ہم نے اس کتاب کا انگریزی ترجمہ Lessons from Quran کے نام سےبھی شائع کیا ہے۔اس کتاب کا موضوع اعتقادی مسائل ہیں۔آپ اس کتاب میں جو کچھ پڑھیں گے وہ استاد محسن قرائتی نے نوجوانوں سے طویل تعلیمی مدت میں کہی ہیں۔ اس کتاب میں عقل ، فطرت ، آیاتِ قرآنی اورارشادات معصومینؑ کو استدلال کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ جہاں تک ہو سکا یہی کوشش کی گئی ہے کہ غیر مانوس اصطلاحوں اور غیر ضروری طوالت سے پرہیز کیا جائے۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ ان اسباق کے مخاطَب چونکہ بالخصوص نوجوان ہیںلہٰذا مسائل کو کہاوتوں اور مثالوں کے ذریعے سے پیش کیاگیاہےکیونکہ اس طرح مسائل خشک استدلال سے نکل کر حسّی ہوجاتے ہیں،بات آسانی اور درستی کے ساتھ جلدی سمجھ میں آجاتی ہے۔ ،ضدی لوگ مثالوں کو دیکھ کر بات ماننے لگتے ہیں۔ اسباق میں مختلف مسائل سمجھانے کے لیے واضح مثالوں سے کام لیاگیاہے،جیساکہ قرآن مجید کا طریقۂ تعلیم بھی تمثیلی ہے۔

جب آیت اللہ مرتضیٰ مطہری نئی نسل کے لیے ایک کتاب ’’داستان راستان ‘‘ لکھتے ہیں یا استاد محسن قرائتی نوجوانوں سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’’میرے پیارے نوجوانو !  ’’ میں یہ چاہتا ہوں کہ تمہارے بھائی کی طرح تمہارے درمیان آئوں اور تمھیں آسان زبان میں مفید باتیں بتائوں۔ اگر میں تمھیں مفید باتیں نہ بتا سکا تو پھر ہم یہ سلسلہ ختم کردیں گے اور اپنے اپنے کام میں لگ جائیں گے۔‘‘ یا حضرت رسول اکرم ﷺ اپنے مبلغ سے فرماتے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں نوجوانوں کو تلاش کریں اور ان سے رابطہ رکھیں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کام کی قدر وقیمت کتنی زیادہ ہے۔

امید ہے کہ اس کتاب کے مندرجات ان تمام لوگوں خاص کر نوجوانوںکے لیے بہترین معاون ثابت ہوں گے جو اسلام کے اعتقادی مسائل کو آسان انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ انشاءاللہ