اسلام دین حکمت

تعارف:

 کتاب اسلام دین حکمت آیت اللہ بہشتی اورحجۃ الاسلام جواد باہنر کی فارسی کتاب شناخت اسلام کا اردو ترجمہ ہے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انسانی زندگی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک مادّی اور دوسرا روحانی۔ مادّی زندگی میں انسان کو مختلف قسم کی ضروریات لاحق ہوتی ہیں مثلاً بھوک ، پیاس ، لباس ، مکان وغیرہ۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کی وہ پوری زندگی تگ و دو کرتا ہے تاہم ان کی تکمیل سے اس کی زندگی مکمل نہیں ہوجاتی جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ اس کی زندگی کا ایک پہلو روحانی بھی ہوتا ہے۔ ابتدائے آفرینش سے وہ کئی غیرمرئی چیزوں کے بارے میں سوچتا چلا آیا ہے مثلاً یہ کہ اس کائنات کا خالق و مالک کون ہے؟ اس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے ؟ اس میں خود انسان کا اپنا کیا مقام ہے اور موجودہ زندگی کے بعد اس کے مقدر میں کیا لکھا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان چیزوں کے بارے میں انسان جو رائے قائم کر لیتا ہے وہ اس کا دین یا ’’مسلک‘‘ کہلاتا ہے اور اس مسلک کے بارے میں حاصل ہونے والے یقین کا نام ’’ ایمان ‘‘ ہے۔

کسی مسلک پر ایمان انسانی زندگی میں بہت مؤثر اور تعمیری کردار ادا کرتا ہے۔ ایمان زندگی کو بامقصد بنا کر اس کا رخ متعین کرتا ہے۔ اسے حرارت اور رونق بخشتا ہے اور ہر قسم کے فضول اور نامناسب احساسات کی راہ مسدود کردیتا ہے، اس لیے لازم ہے کہ اتنے اہم اور تعمیری کردار کے حامل مسلک کا انتخاب واضح اور یقین سے بھرپور علم اور بصیرت کی روشنی میں کیا جائے کیونکہ سطحی اور سرسری انداز میں اس کا انتخاب زندگی کو ایک مضبوط بنیاد فراہم نہیں کرسکتا۔

لازمی طورپر اس انتخاب کی بنیاد اس بات پر ہوتی ہے کہ آدمی ، انسان اور کائنات کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے اور وہ کائنات اور اس میں انسان کے مقام کو کس نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ اسی بات کو جدید اصطلاح میں ’’ جہاں بینی ‘‘ یا مطالعہ کہتے ہیں۔ہر مذہب اور مسلک کی بنیاد ایک مخصوص جہاں بینی یعنی کائنات اور انسان کے متعلق اس کے مخصوص نظریے پر ہوتی ہے جس کی صحیح شناخت ضروری ہے کیونکہ عام طور پر اس بارے میں مذاہب کے نظریات کو جانے بغیر ان مذاہب کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔

اسلام بھی کائنات اور انسان کے متعلق ایک خاص نظریہ رکھتا ہے جسے واضح طورپر سمجھ لینا ضروری ہے۔انسان اپنی ذات کی تعمیر بھی کرتا ہے اور اپنے ماحول کی بھی۔ اس کی یہ ’’ خود سازی ‘‘ اور ’’ ماحول سازی ‘‘ ایک دوسری کی تکمیل کرتی ہیں۔ وہ ایک ایسی خودساز مخلوق ہے جو اپنے آپ کو اسلام کے خودسازی کے حقیقی معیارات کے مطابق ایک ایسی مستقل مزاج ، فعال ، پُرجوش ، صحت مند اور بلند اخلاق ہستی کے قالب میں ڈھال سکتی ہے جو خود غرضی اور خود پسندی سے دور ہو ، خواہشات نفسانی کو قابو میں رکھ سکے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خدمت خلق میں ہمہ تن مشغول ہو اور یہ خدمت خود اپنے جذبہ ایثار اور دوسروں کے تعاون سے انجام دے یعنی ان لوگوں کے تعاون سے جو اپنے مشترک مقصد اور حکمت عملی کی بناپر ایک ایسے رشتے میں منسلک ہوں جس نے اُنھیں ایک قوم اور ایک بااثر اور فعال گروہ بنا دیا ہو۔

لہٰذا اسلام پر عمل پیرا انسان ایک ذمے دار ہستی ہے اور اس کی ذمے داری یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ پر ایمان اور اس کی بتائی ہوئی صراط مستقیم کی بنیاد پر ایک بہترین عادلانہ معاشرتی اور اقتصادی نظام قائم کرے۔

            زیر مطالعہ کتاب میں آپ کی خدمت میں جو کچھ پیش کیا جارہا ہے وہ انہی اصولوں کی تشریح اور اسلام کے اسی پہلو کی تفسیر ہے۔ امید ہے کہ یہ مضامین تمام برادران اسلام خصوصاً نوجوان نسل کی کردار سازی میں معاون ثابت ہوں گے۔ ان شاء اللہ