فزت برب الکعبہ
کتاب کا تعارف:
فزت برب الکعبہ مختصر مگر موثر اور قوت جاذبہ کا حامل یہ مقالہ محمدی ری شہری کا ایک مقالے کا اردو ترجمہ ہے۔
امام علیؑ کی شہادت سے شیفتگی اور خاک و خون میں ملنے کی آرزو ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر بڑے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد سے امام کےدستیاب اقوال کو اس مقالے میں جمع کردیا ہے اور مختصر وضاحت کے ساتھ ان لوگوں کے علم میں لانا چاہتے ہیں جو امام علیؑ کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور ان ہی کی طرح مرنے کے آرزو مند ہیں۔ جن کی خواہش ہے کہ ابو الائمہ کا اسوۂ حسنہ ان کی اپنی زندگی اور موت کے لیے شمعِ راہ اور ایک نمونہ اور مثال ہو۔واضح رہے کہ اس مقالے میں شہید کے انفرادی نقطۂ نظر سے شہادت پر بحث کی گئی ہے ، اجتماعی نقطۂ نظر سے نہیں۔ جہاں تک معاشرے کی زندگی میں شہادت کے کردار اور انسانوں کی صلاح و فلاح میں اس کی اہمیت کا تعلق ہے اس کے متعلق کچھ اشارہ ہماری کتاب ’’ فلسفۂ شہادت ‘‘ میں کیا گیا ہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں شہادت سے جس والہانہ شیفتگی کا اظہار فرمایا ہے وہ آپ کی پُر عظمت زندگی کا ایک نہایت ہی متأثر کن ، سبق آموز اور دلکش پہلو ہے۔
تاریخ کی عظیم ہستیوں نے شہادت اور راہِ حق میں جاں سپاری کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں میں تو ایسے لوگ بہت گزرے ہیں جو شہادت کی دلی آرزو رکھتے تھے اور دعا کرتے تھے کہ ان کی زندگی کا باب جامِ شہادت نوش کرکے ہی ختم ہو۔ ہمیں ایسے لوگ بھی بکثرت ملتے ہیں جنھوں نے شہادت کو جو انھیں از حد محبوب تھی انتہائی ذوق و شوق سے گلے لگایا ہے لیکن انسانی تاریخ کسی ایسے شخص کے ذکر سے خالی ہے جو امام علی علیہ السلام کی طرح شہادت پر اس طرح فریفتہ ہو کہ تمام زندگی اسی کے بے تابانہ انتظار میں گزارے بلکہ شہادت ہی کی امید پر زندگی بسر کرے اور اگر یہ امید اور توقع نہ ہو تو اس کے لیے زندگی سخت دشوار ، اجیرن اور بے معنی بن جائے۔
امید ہے کہ یہ کتاب اہل ایمان کے لیے بصیرت افروز ثابت ہوگی ، ان کے قلوب کو گرمائے گی اور انھیں امیرالمومنینؑ کے نقش قدم پر چلنے پر آمادہ کرے گی۔ انشاءاللہ