حضرت ابو طالبؑ —مظلوم تاریخ
:مصنف کاتعارف
شیخ عبدالحسین المعروف علامہ امینی — —شیخ احمد کے فرزند اور شیخ نجف قلی ملقب ’’ امین الشرع ‘‘ کے پوتے ہیں۔ علامہ امینی نے ۱۳۰۲ھ میں تبریز کے ایک دینی و علمی گھرانے میں ایک عالم اور زاہد باپ کے زیر سایہ اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۹۰ھ بروز جمعہ داعی اجل کو لبیک کہا۔ان کے آخری الفاظ یہ تھے :’’ اے پروردگار ! یہ سکرات موت کی کیفیت ہے جو مجھ پر طاری ہوگئی ہے۔ پس میری جانب توجہ فرما اور مجھے تحمل کی وہی قوت عطا فرما جو تو اپنے صالح بندوں کو دیا کرتا ہے ... ‘‘
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی اور پھر مدرسۂ طالبیہ میں داخل ہوئے اس درسگاہ میں آپ نے — سطحیات و مقدمات فقہ و اصول پڑھےسطحیات کی تکمیل کے بعد علامہ امینی نےآیت اللہ سید محمد بن محمد باقر حسینی فیروز آبادی ، آیت اللہ سید ابو تراب بن ابو القاسم خوانساری ، آیت اللہ مرزا علی بن عبدالحسین ایردانی اور آیت اللہ مرزا عبدالحسین مشکینی جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا اور انہی کے زیر سایہ درس خارج کے مرحلے تک پہنچ گئے۔آپ نے فلسفۂ و کلام میں بلند مرتبہ حاصل کیا اور فقہ و اصول میں اجتہاد اور تبحر کے مقام تک جا پہنچے۔ اس دوران انھوں نے جن استاتذہ سے کسب فیض کیا ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں :آیت اللہ سید مرزا علی ، آیت اللہ مجاہد ، شیخ مرزا حسن نائینی ، آیت اللہ شیخ عبدالکریم حائری یزدی ، آیت اللہ سید ابو الحسن اصفہانی ، آیت اللہ شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاء وغیرہ جو سب کے سب اسلامی علم و دانش کے متبحر علماء تھے اور جنھوں نے اپنے اپنے زمانے میں علمی اور قومی تحریکات کی بنیاد رکھی۔ علامہ شیخ عبدالحسین امینی کو کئی علمائے ربانی سے اجازات روایت بھی حاصل تھا۔ آپ نےکئی کتابیں بطور یادگار چھوڑی ہیںجن میں تفسیر فاتحۃ الکتاب ، شہداء الفضیلۃ ، کامل الزیارۃ ، ادب الزائر لمن یمم الحائر، سیرتنا و سنتنا ،تعلیقات مکاسب اورالغدیر وغیرہ شامل ہیں۔
:کتاب کاتعارف
حضرت ابو طالبؑ—مظلوم تاریخ علامہ امینی کی ایک گراں بہا کتاب ’’ الغدیر ‘‘ کی جلد ۷ ۔ ۸ کے ان حصوں کا ترجمہ ہے جو امیرالمومنین امام علیؑ کے والد بزرگوار حضرت ابو طالبؑ کے حالاتِ زندگی پر مشتمل ہیں۔
اردو زبان میں حضرت ابو طالب بن عبدالمطلبؑ کی شخصیت پر بہت ہی کم لکھا گیا اور جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں بھی اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم بات تو یہ دیکھنا ہے کہ حضرت ابو طالبؑ جیسے بزرگوار نے اپنی زندگی میں کون سے کام کس طرح انجام دیئے۔ تاریخی شہادتوں کے مطابق حضرت ابو طالبؑ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام ، اس کی صحیح تعلیم اور پیغمبر اسلام ﷺ کے دفاع میں گزارا۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے قبیلے یعنی قریش کا غصہ مول لیا ، طعنے برداشت کئے اور شعب ابی طالب کی سختیاں اور تکلیفیں اٹھائیں۔ مشکل حالات میں حضرت ابو طالبؑ نے مختلف مواقع پر نظم و نثر میں رسول اکرم ﷺ کی حمایت کا اعلان کیا اور اپنے بیٹوں (امام علیؑ اور حضرت جعفرؑ) کو آنحضرت ﷺ کے ہمراہ رہنے کا حکم دیا۔ المختصر انھوں نے اپنی زندگی کا تمام سرمایہ —اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ پر نچھاور کردیا اس لیے ان کی وفات پر (جو ام المومنین خدیجہؓ) کی وفات کے قریبی دنوں میں ہوئی تھی رسول اکرم ﷺ کو اتنا دکھ ہوا کہ آپ نے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال) قرار دے دیا۔ان تمام روشن حقیقتوں کے باوجود حضرت ابو طالبؑ کو مشرک کہا جاتا ہے۔ اس ناروا تہمت کو ثابت کرنے کے لیے بطور دلائل آیاتِ قرآن اور احادیث رسولؐ بھی پیش کی جاتی ہیں۔
علامہ امینی کی خاص خوبی اور ان کا بڑا کمال یہی ہے کہ انھوں نے مکمل غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے تاریخی واقعات پر تجزیہ و تحلیل کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا اور شرک ابو طالبؑ جیسی تمام تہمتوں کا حقیقت پسندانہ جواب دیا ہے۔
اہل اسلام، بالخصوص دوستدارانِ امام علی ابن ابی طالب کے لیے یہ کتاب ایک عظیم تحفہ اور رہنما ثابت ہوگی ۔ ان شاءاللہ