علیؑ مظہر کبریا

:کتاب کا تعارف

علی مظہر کبریاعلامہ فضل اللہ کُمپانی کی فارسی کتاب علیؑ کیست کا اردو ترجمہ ہے۔یہ کتاب آج سے تقریباً  ساٹھ سال پہلے یعنی ۱۹۵۸؁ء میں فارسی زبان میں شائع ہوئی تھی اور عوام میں مقبول ہونے کی بنا پر اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ اس کتاب کے مصنف جناب حجۃ الاسلام فضل اللہ کمپانی کے اسلوب تحریر کو برقرار رکھتے ہوئے صاحبان ذوق کے لیے اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے ۔

تعریف اس خدائے عزوجل کی جس نے پیکر ہستی کو کائنات سے ہم آہنگ لباس عطا فرمایا اور اپنی تجلیات کو آثار فطرت میں آشکار فرمایا تاکہ فرد دانا و بینا چشم بصیرت سے اس ذات بے ہمتا کا مشاہدہ کرسکے جس کی جبروت کے بے کنار افق پر طائر فکر و خیال پر نہیں مار سکتا اور جس کی ابدیت کے بے پایاں صحرا میں عقل و خرد جولانیاں نہیں کرسکتی۔ اسی خدا ئے عزوجل نے نوع انسانی کی ہدایت کے لیے اپنے بنائے ہوئے ہادیوں کو شمع ہدایت قرار دیا اور ان کے وسیلے سے انسانوں کو معاشرتی نظام اور اس کے احکام عطا کرکے ان احکام کی پابندی کا حکم دیا ہے۔اَن گنت درود و سلام ہوں کاشانۂ نبوت و ولایت کی ان پاک باز ہستیوں پر جو بنی نوع انسان کی تربیت کرنے والی اور ان کے لیے راہ توحید کو روشن کرنے والی ہیں۔

زیر نظر کتاب اس عظیم کرشماتی شخصیت کی زندگی کے بارے میں ہے جس کے علاوہ صفحۂ روزگار پر اس قدر فضائل کا حامل کوئی اور دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اس عالم رنگ و بو میں خود مصور نے اس جیسی کوئی دوسری تصویر نہیں بنائی۔رسول مقبول ﷺ کا ارشاد اقدس ہے : یَا عَلِیُّ ! مَا عَرَفَکَ حَقَّ مَعْرِفَتِکَ غَیْرُ اللّٰہ وَغَیْرِیْ   اے علیؑ! تم کو میرے اور اللہ کے سوا کسی اور نے پوری طرح نہیں پہچانا۔

اگرچہ حضرت علی ؑ کی حیات طیبہ پر کافی تحقیقی کام ہوچکا ہے اور کئی تصانیف چھپ چکی ہیں تاہم زیر نظر کتاب میں امام عالی مقام کے تعارف کو عام فہم بنانے کے لیے نہایت سادہ اسلوب اپنانے کے ساتھ ساتھ فاضل مصنف نے درج ذیل نکات کو مدنظر رکھا ہے۔

)۱( کتاب کے جملے سادہ ہوں۔ پیچیدہ اور غیر مانوس عبارتیں نہ ہوں۔

)۲( حضرت علیؑ کی خلافت بلا فصل کے اثبات میں جذبات و تعصبات کی بجائے اہلسنت کی معتبر کتابوں کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔

)۳( جانبداری سے دور رہتے ہوئے صرف حقائق پیش کئے گئے ہیں اور مروجہ علوم کے مطابق  ضعیف روایتوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

)۴( حضرت علیؑ کی امامت سے متعلق برادران اہلسنت کے نزدیک قابل قبول احادیث کے علاوہ عقلی اور اصولی دلائل سے استدلال کیا گیا ہے۔

)۵( جن شیعہ عقائد کا اثبات لازمی ہے ان کو برادران اہلسنت کی معتبر کتب سے ثابت کیا گیا ہے اور ان کے حوالہ جات بھی درج کئے گئے ہیں۔

امید ہے کہ آپ  علیؑ ، مظہر کبریا کی کچھ معرفت حاصل کی جاسکے کیونکہ ان کی پوری معرفت حاصل کرنا ہم جیسے ناچیز انسانوں کے لیے ممکن نہیں تاہم  اس سوانح حیات کے مطالعہ سے حضرت علیؑکی پہلو دار شخصیت کے کسی ایک پہلوکےبارے میں کچھ نہ کچھ جان سکیں گے اور اسے اپنی زندگی میں مشعل راہ بنائیں گے اور اپنے آپ کو ان کی پیروی کے لیے تیار کریں گے کیونکہ وہ ہمارے امام ہیں اور ہم ان کے ماموم۔ ان کا اتباع کرکے ہم دنیا میں شادکام ہوسکتے ہیں اور آخرت میں بھی کوثر کا جام پی سکتے ہیں۔ ان شاءاللہ