تفسیر سورۂ حجرات

:مصنف کاتعارف

 آیت اللہ سید عبدالحسین دست غیب معاصر علمائے ایران میں سے ہیں۔ ایران میں درس اخلاق اور کئی اخلاقی کتب کی تالیف کے سبب معلم اخلاق کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی اہم کتابوں میں گناہانِ کبیرہ، قلب سلیم، داستان ہائے شگفت شامل ہیں۔

آپ انقلاب اسلامی تحریک کے اہم رہنما تھے۔ انقلاب کے بعد شہر شیراز کے امام جمعہ مقرر ہوئے ۔1360 میں نماز جمعہ کے بعد دہشت گرد گروپ مجاہدین خلق کے حملے میں شہید ہوئے اور شہید محراب کے نام سے مشہور ہوئے۔

:کتاب کاتعارف

             تفسیر سورۂ حجرات شہید محراب کی باقاعدہ تالیف نہیں ہے بلکہ ان کی تقاریر کا مجموعہ ہےجو انھوں نےماہِ مبارک رمضان ۱۳۹۶ھ میں ارشاد فرمائی تھیں، ان کی تقاریر کیسٹ سے نقل کرکے اس طرح مدون کیا گیا ہےکہ خطاب ، کتاب میں بدل جائے۔شہید محراب مطالب کی تفہیم کے لیے مشکل حقائق کو داستانوں کے ذریعے سہل بنانے کا فن جانتے تھے۔ سورئہ حجرات کی یہ تفسیر بھی ان کے آسان اسلوبِ بیان کا بہترین نمونہ ہے۔

 یہ سورئہ مبارکہ اگرچہ چھوٹی ہے مگر اس کی تعلیمات اس قدر جامع ہیں کہ فلاح دارین کا ذریعہ بن سکتی ہیں اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی کامیابی کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔اس کتاب میں ترتیب مضامین کو مدنظر رکھتے ہوے سورئہ مبارکہ حجرات کو چھ عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔

 سورئہ حجرات کی ابتدا میں ادبِ پیغمبرؐ کے تقاضوں کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ تلقین کی ہے کہ وہ کسی فاسق کی خبر پر آنکھ بند کرکے اعتماد نہ کریں۔ تیسرے حصے میں بتایا گیا ہے کہ دین مبین اسلام کی نظر میں تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ چوتھے حصے کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ اختلاف کا بنیادی محرک بدگمانی ہے۔پانچویں حصے میں اسلام اور ایمان کا باہمی فرق بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دل و جان سے خدا اور اس کے رسول مقبول ﷺ پر ایمان لائے ، اپنے دل سے ’’ حب دنیا ‘‘ اور ہر طرح کے شبہے کو نکال باہر کرے۔ ایمان کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنی جان اور اپنے مال کی پروا نہ کرے بلکہ جان و مال سے خدا کی راہ میںجہاد کرے کیونکہ انسان فانی ہے اور اسے بقا تب ہی مل سکتی ہے جب وہ فنا فی اللہ ہوجائے۔سورئہ مبارکہ حجرات کے چھٹے حصے میں ایسے افراد کو چاہےوہ صدر اسلام کے وقت ہوں یا آج، متنبہ کیا گیا ہے جو رسول اکرم ﷺ پر اپنے اسلام کا احسان جتلاتے تھے۔ انھیں اسلام و ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے انھیں ایمان کی ہدایت دی ہے۔

             اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنی اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔اس سلسلے میں یہ کتاب بہترین رہنمائی کرے گی۔ان شاءاللہ