تفسیر سورہ الحمدالعرفان

:مصنف کا تعارف

امام خمینی کے شاگرد آیت ا للہ مطہری فرماتے ہیں:  میری شخصیت کے ایک بڑے اہم حصے کی تعمیر اس درس میں اور بعد میں دوسرے درسوں میں ہوئی جو میں نے بارہ سال کے عرصے میں اس استاد ربانی سے حاصل کئے۔ میں نے ان کو ایک ایسا مسافر پایا کہ ’’اہل دل‘‘کے سیکڑوں قافلے ان کے ہمرکاب ہیں۔ان کا نام، ان کی باتیں، ان کی پرجوش روح، ان کا آ ہنی عزم، ان کی ثابت قدمی، ان کی شجاعت، ان کی روشن فکری اور ان کے ولولہ انگیز اور ایمان افروز ارشادات زبان زد خاص و عام ہیں یعنی جان جاناں، دلاوروں کے دلاور، ملت کی آنکھوں کا تارا اور ہمارے عالی مرتبت استاد حضرت آیت اللہ العظمیٰ خمینی ایک ایسا ’’احسان الٰہی‘‘ ہیں جو خداوند کریم نے ہمارے زمانے کو عنایت فرمایا ہے۔

جب میں ان کے پیرس کے سفر کے دوران ان سے ملنے گیا تو میں نے ان میں کچھ ایسی چیزیں دیکھیں جنھوں نےنہ صرف مجھے حیرت زدہ کردیا بلکہ میرے ایمان میں بھی اضافہ کیا۔ جب میں واپس آیا تو دوستوں نے پوچھا: ’’ تم نے کیا دیکھا؟‘‘ میں نے کہا: میں نےجو چار چیزیں شدت سے محسوس کیںوہ یہ ہیں کہ وہ اپنے مشن پر ایمان رکھتے ہیں۔انھوں نے جو راستا چنا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ قوم کی ذہانت پر یقین رکھتے ہیںاورسب سے آخری اور سب سے بڑھ کر اللہ پر کامل یقین رکھتےہیں۔

 اس رہنما کی سرفروشی ، ظلم اور ظالم کے خلاف انتھک جدوجہد ، مظلوم کا سرتوڑ دفاع، صداقت، صاف گوئی، شجاعت اور سودے بازی سے اجتناب نے اس کے بطور رہنما چنے جانے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن بنیادی وجہ ایک اور چیز ہے اور وہ یہ کہ — امام خمینی کی آواز — اس ملت کی تہذیب کے قلب، تاریخ کی پنہائیوں اور روح کی گہرائیوں سے ابھری ہے۔ وہ لوگ جن کی روح میں چودہ سو سال تک محمدؐ، علی ؑ، فاطمہ ؑ، حسن ؑ، حسین ؑ، سلمانؓ، ابوذرؓ اور لاکھوں دوسرے مردوں اور عورتوں کے نعرے سرایت کر گئے تھے، انھوں نے ایک مرتبہ پھر وہی جانی پہچانی آواز اِس شخص کے حلق سے سنی۔ انھوں نے علی ؑ اور حسنین ؑکو ان کے چہرے میں دیکھا اور انھیں اپنی بھولی ہوئی تہذیب کا نمائندہ قرار دیا۔

:کتاب کا تعارف

             العرفان قرآن در صحنہ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب امام خمینی کی سورہ الحمد کی تفسیر پرمبنی تقاریرہیں جو انھوں نے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد قم میں کی تھیں ۔ ان تقاریر صفحۂ تحریر پر منتقل کرکے ، تصحیح و ترتیب اور کچھ اضافات کے ساتھ چھاپ دیا گیا۔ اس کتاب میں سورہ الحمد کی تفسیر بیان کرتے ہوئے جن عرفانی عنوانات کو زیر بحث لایا گیا ہے ان میں چند یہ ہیں مثلاً اللہ کے نام اس کی ذات کی علامت ہیں ، سارا عالم اللہ کا نام ہے ، کوئی ممکن خودبخود وجود میں نہیں آتا ، موجودات اللہ کی نشانی ہیں،جو موجود محدود ہو وہ ممکن الوجود ہوتا ہے ، اسم اعظم کیا ہے ، سب موجودات تسبیح کرتی ہیں ، تمام حرکات اسمائے الٰہی ہیں ، مان لینے اور عقلی طور رپر سمجھ لینے میں فرق ہے ، انسان پر سب مصیبتیں حب نفس کی وجہ سے آتی ہیں ، ہجرت الیٰ اللہ ، انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد ، انبیاء علیہم السلام انسان بنانے کے لیے آئے ہیں ، نفس پر مکمل فتح تک کوشش ، تجلی کے معنی، خدا کے لیے قیام،دنیا کی محبت فتنوں کی جڑ ہے , حب نفس ، قلوب پر دعا کا اثر، دعا اور حدیث کے بغیر قرآن ، عقیدے کی بنیاد دلیل پر ہونی چاہیے  ،  ھُوَ مَعَکُمْکا مفہوم ، لوگوں سے دعائیں چھڑانا بالکل غلط ہے ، امام علی ؑاللہ کی آنکھ ہیں اور اللہ کا نور ہیں،وغیرہ۔

            ہمیں امید ہے کہ یہ کتاب معرفت کے بند دریچوں کو کھول کر ایمان اور یقین کو پختگی اور جلا بخشے گی۔ انشاءاللہ