(تفسیرسورہ الحمد( البیان

:مؤلف کاتعارف

            سید ابوالقاسم موسوی خوئی (1317ق-1413ق) اپنے زمانے کے مایہ ناز شیعہ مرجع تقلید، مفسر اور علم رجال کے ماہرین میں سے ہیں۔ البیان فی تفسیر القرآن اور معجم رجال الحدیث ان کے نمایاں آثار ہیں۔ مرزا نائینی اور محقق اصفہانی فقہ اور اصول فقہ میں آپ کے برجستہ اساتید رہے ۔ آپ کی مرجعیت کا باقاعدہ آغاز تو آیت اللہ بروجردی کی رحلت کے بعد ہوا تھا لیکن آیت اللہ حکیم کی رحلت کے بعد آپ پوری دنیا خاص طور پر عراق میں مرجع اعلی کے طور پر پہچانے جانے لگے ۔اپنی مرجعیت کے دوران آپ نے دین کی تبلیغ ، ضرورت مندوں اور محتاجوں کی امداد کے پیش نظر ایران، عراق، ملائشیا، انگلستان،امریکا اور ہند و پاک سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں لائبریریوں ، مدارس، مساجد، امام باگاہوں اور ہسپتالوں کی تعمیر جیسے مذہبی اور فلاحی امور انجام دئے ہیں۔ 50 سال کی تدریس کے دوران آپ نے فقہ کے درس خارج کا ایک، اصول فقہ کے چھ اور تفسیر کا ایک مختصر دورہ تدریس کیا۔ سید محمد باقر صدر، مرزا جواد تبریزی، سید علی سیستانی، حسین وحید خراسانی، سید موسی صدر اور سید عبدالکریم موسوی اردبیلی جیسے ممتاز مراجع آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔

1960ء کی دہایوں میں سیاست کے فعال اور مؤثر شخصیات کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ اس دوران ایران میں برسر اقتدار پہلوی حکومت کے خلاف اپنا سیاسی موقف کا اظہار برملا مختلف بیانات کے ذریعے کرتے تھے ۔ ایران عراق جنگ میں آپ نے کھل کر انقلاب کی حمایت کی۔ عراق میں صدام حسین کی بر سر اقتدار بعثی حکومت نے عمر کے آخری حصے تک نظر بند رکھا۔ آپ نے 8 صفر سن 1413 ہجری میں 96 برس کی عمر میں وفات پائی۔

:کتاب کاتعارف

زیر نظر کتاب  البیان میں سورہ الحمد کی تفسیربیان کی گئی ہے۔ اس تفسیر میںفقط انہی موضوعات سے بحث کی گئی ہے جن کا تعلق قرآن کریم کے معانی سے ہے۔ یہاں ہم قارئین کی توجہ ان دو نکتوں کی طرف مبذول کرانا ضروی سمجھتے ہیں:

۱۔         اس تفسیر میں مندرجہ ذیل امور پر اعتماد کیا ہے اور انہی کو حجت اور سند قرار دیا گیاہے:

)ا)        آیات قرآنی کا متبادر مفہوم۔    )ب)    وہ محکم آیات جن کے معنی بالکل واضح ہیں۔

)ج) وہ روایات جن کی صحت کثرتِ نقل اورتواترکی بناپرثابت ہے۔  (د) وہ احادیث جو اہلبیت ؑ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہیں۔

)ہ) فطری عقل جو انحراف اور غلط رنگ آمیزی سے محفوظ ہو، کیونکہ عقل ہی حجتِ باطنی ہے اسی طرح جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپؐ کا خاندان حجتِ ظاہری ہے۔

۲۔        عام طورپر ایک آیت کی تفسیر کے لئے دوسری آیات کے مفہوم سے استفادہ کیا گیا ہے اور قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے خود قران ہی سے مدد اور رہنمائی حاصل کی گئی ہے۔ اس طرح حاصل مفہوم کی مزید تائید کے لئے احادیث سے استشہاد کیا گیا ہے۔

ہر سچے مسلمان کیلئے بلکہ ہر اس شخص کیلئے جو علم کا طالب اور حقیقت کا جویا ہو یہ ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم سے اکتساب نور کی خاطر اسے سمجھنے اور اس

کے اسرار و رموز کو دریافت کرنے پر خاص توجہ صرف کرے۔اس سلسلے میں یہ کتاب بہترین رہنمائی کرنے کی پوری صفات کی حامل ہے۔