علوم القرآن
:مصنف کا تعارف
حجت الاسلام سید ریاض عراق کے مشہور الحکیم خاندان کے چشم و چراغ اور آیت اللہ العظمیٰ سید سعید الحکیم طباطبائی کے فرزند ارجمند ہیں۔
سید ریاض الحکیم نے ۱۹۶۹ء میں حوزہ علمیہ نجف اشرف میں داخلہ لیا اور سطحیات کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جید علمائے کرام کے درس خارج میں شرکت کی۔ صدام حکومت کے خلاف ’’ آل حکیم ‘‘ کی سیاسی جدوجہد کے جرم میں سید ریاض الحکیم کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ آپ نے جیل میں خفیہ طور پر ساڑھے آٹھ سال درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور مختلف موضوعات پر کتابچے بھی لکھے۔
نجف اشرف میں تحصیل علم کے دوران آپ نے تدریس کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا اور مکاسب ، کفایہ اور شرح تجرید پڑھاتے تھے۔ پھر آپ عراق سے ہجرت کرکے ایران آگئے۔ یہاں حوزہ علمیہ قم میں آپ نے برزگ علماء سے کسب فیض کیا اور چند سال فقہ کے درس خارج میں بھی شرکت کی۔
پھر آپ خود بدایۃ الحکمۃ ، نہایۃ الحکمۃ ، علوم القرآن ، حلقات اصول شہید صدر ، مکاسب اور کفایہ پڑھانے لگے۔ آپ جدید عصری علوم ، عمرانیات ، نفسیات ، جدید علم کلام اور روشن خیال مصنفین خصوصاً عرب مصنفین کی کتابوں سے گہری آشنائی رکھتے ہیں۔ نیز آپ سیاسی موضوعات ، بین الاقوامی اور علاقائی تبدیلیوں سے متعلق معلومات میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ آپ ٹی وی کے ٹاک شوز ، مختلف سمیناروں اور کانفرنسوں میں بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔
آپ کو تحقیق سے بڑا شغف ہے اور آپ نے مندرجہ ذیل تحقیقی کتابیں تالیف کی ہیں۔
)۱( عشرۂ دروس فی العقیدۃ (۲) شبہات حول القرآن (۳) الاجازۂ فی الفقہ الاسلامی
(۴) دروس منہجیہ فی الفقہ اسلامی (۵) مراجعات القرآنیہ (۶) علوم القرآن
: کتاب کا تعارف
علوم القرآن حجت الاسلام سید ریاض کی عربی کتاب ’’ علوم القرآن ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔
قرآن کریم سے متعلق علوم کو ’’ علوم قرآن ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ’’ علوم قرآن ‘‘ کو حوزات اور جامعات میں ایک اہم مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے اور بہت سے طلباء اس مضمون میں جامعات سے ڈگریاں لیتے ہیں۔ہمارے یہاں علوم قرآن پر اس سے قبل ایسی کتاب موجود نہیں تھی جوعام قاری بالخصوص طلباءکے کام آسکے اور محققین کے لیے اعلیٰ درجے کی جو کتابیں موجود ہیں اُن سے استفادہ کرنا عام افراد کے بس کی بات نہیں ہے۔
زیر نظر کتاب ان دروس پر مبنی ہے جو دروس حجت الاسلام سید ریاض نے حوزہ علمیہ قم کے عالمی مرکز میں غیر ملکی طلباء کو دیے ۔ اسی لیے کتاب کا اسلوب درسی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ بحثیں طویل اور عبارات گنجلک نہ ہوں مگر مطالب واضح ہوں۔ درسی حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض مباحث کو توڑ توڑ کر کئی درسوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ اس کے ہر باب کے آخر میں سوالات بھی لکھے گئے ہیں تاکہ عام قاری اور بالخصوص طلباء کے لیے دروس کے اہم نکات کو یاد رکھنا آسان ہوجائے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قرآن کریم نے مسلم اور غیر مسلم علماء و محققین کی توجہات کو اپنی طرف مبذول کیا ہے اور وسیع پیمانے پر قرآن کریم کو سمجھنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔مسلم علماء نے اپنی کوششوں کو صرف تفسیری مطالب اور مدلولِ آیات پر غور و فکر تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اُنھوں نے قرآن کریم کے دیگر موضوعات پر بھی دل کھول کر بحثیں کی ہیں۔ ان بحثوں میں قرآن کی خصوصیات مثلاً اعجاز قرآن ، تنزیل قرآن ، جمع قرآن ، ترتیب نزول اور قراءت قرآن وغیرہ اور ان جیسے دیگر اہم اور دل چسپ موضوعات شامل ہیں۔ ان قرآنی موضوعات سے شغف رکھنےوالے افراد اس کتاب سے بھرپور استفادہ کر سکیں گے۔ ان شاءاللہ
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تشنگان علوم قرآن کواس کتاب سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔