محرماتِ اسلام
تعارف:
امور کی تین قسمیں ہیں : (۱) واضح حلال امور (۲) واضح حرام امور (۳) مشتبہ امور
جس نے مشتبہ امور کو چھوڑا وہ محرمات سے بچ گیا اور جس نے مشتبہ امور کو پکڑا وہ محرمات میں پھنس گیا اور انجانے میں ہلاک ہوگیا۔ ایک اور حدیث میں کہا گیا ہے : جو علم فقہ سیکھے بغیر کاروبار کرے گا وہ لاعلمی میں سود میں پڑ جائے گا۔لہٰذا حرام اور ربا اور دنیا و آخرت کی ہلاکت سے بچنے کے لیے احتیاط پر عمل کرنا ضروری ہے۔
زیر نظر کتاب محرمات اسلام معروف شیعہ عالم حجت الاسلام محمد حسین بہارانچی کی کتاب محرمات اسلام کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں اعتقادی ، فقہی ، اخلاقی ، تاریخی اور اقتصادی محرمات کی ایک تعداد کو جمع کیا گیاہے تاکہ مومنین اس سے مستفید ہوسکیں۔اس میں گناہوں کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر انھیں ترتیب وار بیان کیا گیا ہے۔ یہ ترتیب معصومین علیہم السلام کی تصریح کے تحت قائم کی گئی ہے۔ محرمات کے اثبات کے لیے قرآنی آیات ، روایات معصومینؑ اور استدلال فقہاء کی کیفیت سے استفادہ کیاگیا ہے۔بعض محرمات کی حرمت کا اگر معصومینؑ نے فلسفہ بیان کیا ہے تو اس کو بھی نقل کیا ہےاورمشہور فقہاء کی آراء سے بھی بھرپور استفادہ کیا گیاہے۔اثبات مطلب کے لیے بعض تاریخی واقعات بھی نقل کئے گئےہیں۔ اس کتاب میں صرف گناہ کے بیان پر ہی اکتفا نہیں کیاگیا بلکہ اس کے متضاد افعال پربھی بحث کی گئی ہے مثلاً سود کے مقابلے میں قرض حسنہ اور تکبر کے مقابلے میں تواضع ۔قرآنی آیات کی تفسیر کے لیے وارثان کتاب یعنی ائمہ طاہرینؑ کے بیانات پر انحصار کیا ہے۔جہاں محرمات کو قرآن و حدیث اور روایات معصومینؑ نیز مجتہدین کے فتاویٰ سے ثابت کیا ہے وہاں موارد شبہ اور احتیاط کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
اس حقیقت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان پر نقصان سے بچنا عقلی طور پر واجب ہے۔ نقصان کا اگرچہ احتمال ہی کیوں نہ ہو اس سے بچاؤ کی تدبیر کرنا ضروری ہے اور اگر نقصان یقینی ہو تو اس سے بچنا مزید ضروری ہو جاتا ہے۔ اگر مستقبل میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو حال میں اس سے بچاؤ کی تدبیر کرناچاہیے۔ دنیا کا نقصان تو پھر بھی قابل برداشت ہے۔ انبیاؑء اور اولیاؑء نے آخرت کے نقصان کو بالکل واضح کرکے بیان کیا ہے اور ان کی صداقت کا تقاضا ہے کہ ہم آخرت کے یقینی نقصان سے بچنے کے لیے ہر تدبیر اختیار کریں اور اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھیں اور اُن اولیاء اللہ کی ہدایت کی روشنی میں زندگی گزاریں جو اللہ کی طرف سے مقرر کردہ اولی الامر ہیں اور صراط مستقیم کے رہبر ہیں۔
اصولی طور پربھی لوگوں کو شاہراہ زندگی پر سفر کرنے کے لیے اس کے قوانین سیکھنے چاہئیں تاکہ ان کا سفر خوشگوار اور محفوظ ہو اور وہ راہ کمال میں آنے والی رکاوٹوں اور خطروں سے آگاہ ہوسکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اکثر لوگ گناہوں کے خطرات سے آگاہ نہیں ہیں اسی لیے وہ گناہ کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے اور لاعلمی کی وجہ سے شیطان کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ ایک سوچ یہ بھی ہے کہ گناہوں کی حرمت کسی خاص زمانے اور خاص وقت سے مخصوص تھی۔ یقینا یہ شیطانی سوچ ہے۔ شیطان ہمیشہ ایسی توجیہات پیش کرتا رہتا ہے اور اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ لوگ گناہوں کی دلدل میں دھنسے رہیں اور سعادت و کرامت سے محروم رہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں محرمات سے بچنے کی توفیق عنایت فرمائے ، تقویٰ کی دولت سے مالا مال فرمائے اور قرآن و حدیث سے مستفید ہونے کی صلاحیت عطا فرمائے۔