تاریخ اسلام در آثار مطہری
تعارف:
تاریخ اسلام در آثار مطہری کو استاد شہید مرتضیٰ مطہری کی ساٹھ کتابوں اور ان کی تقریر کی کیسٹوں کی روشنی میں تاریخ اسلام کے مطالب کو مدون کیا گیا ہے اور علامہ محقق مرتضیٰ عسکری نے نظر ثانی فرمائی ہے۔اس کتاب میں درج مطالب کے اجمال یا تفصیل میں موضوعات کی اہمیت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب اُسی کا اردو ترجمہ ہے اور یہ چھ ابواب پر مشتمل ہے۔
پہلے باب میں ’’ بنیادی مباحث ‘‘ بیان کئے گئے ہیں یعنی تاریخ کا مفہوم ، قرآن میں تاریخ کا فلسفہ ، تاریخ کی حرکت کے عوامل ، تاریخ کی اہمیت ، تاریخ نگاری اور چند مسلمان مؤرخین کا تعارف ، تاریخ نگاری کی اَقسام اور عرب و ایران میں اسلام کے فروغ کا ذکر کیا گیا ہے۔
دوسرے باب میں ’’ رسول اکرم ﷺ کی حیات اور سیرت ‘‘ نیز آنحضرت ﷺ کی شخصیت اور آپ کے اخلاق عالیہ پر بحث کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اس میں آنحضرت ﷺ کی خصوصیات ، اسلام میں قیادت اور قائد کی شرائط ، آنحضرت ﷺ کی بعثت ، ہجرت اور آپ کے غزوات ، حجۃ الوداع اور غدیر خم کے واقعات پیش کئے گئے ہیں۔ نیز اسلام کی کامیابی اور اس کے فروغ کے اسباب پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
تیسرے باب میں سقیفہ کے واقعات ، خلفائے ثلاثہ کی فتوحات نیز اسلام کے ایران پر اور ایران کے اسلامی تمدن پر اثرات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیںحضرت عثمانؓ کے طرزِ حکومت ، لوگوں کے ردعمل اور حضرت عثمانؓ کے قتل میں معاویہ کے کردار کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
چوتھے باب میں حضرت علیؑ کی حکومت ، سابقہ خلفاء پر آپ کی تنقید اور اُن کے عہد میں آپ کی خاموشی کی وجوہات بتائی گئی ہیں۔ علاوہ بریں حضرت علی ؑکے سیاسی مخالفین کے کردار اور آپ کی حکومت کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
پانچویں باب میں ’’ بنی امیہ کے دور میں ائمہ طاہرین ؑ کا کردار ‘‘ پیش کیا گیا ہے۔ اس باب میں اسلامی حکومت پر بنی امیہ کے قبضے کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے اور بنی امیہ کی سیاسی چالوں ، صلح امام حسنؑ کے اسباب اور امام حسنؑ و امام حسینؑ کے عہد کے معروضی حالات پر گفتگو کی گئی ہے اور امام حسین ؑکے قیام و انقلاب کے بنیادی محرکات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور کربلا میں اہلبیتؑ بالخصوص حضرت زینب کبریٰ ؑکے کردار کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس باب میں امام زین العابدینؑ اور امام محمد باقرؑ کی زندگی کے چند گوشوں پر بحث کی گئی ہے اور ائمہ طاہرینؑ کی سیرت کے ظاہری اختلاف کے فوائد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
آخری باب میں ’’ بنو عباس کے دور میں ائمہ طاہرینؑ کا کردار ‘‘ پیش کیا گیا ہے۔ اس باب میںبنو عباس کے برسراقتدار آنے کی وجوہات ، اُس دور میں امام جعفر صادقؑ کے ردعمل اور عباسی حکومت کی سیاسی چالوں ، امام جعفر صادقؑ و امام موسیٰ کاظمؑ کے دور کے سیاسی و سماجی حالات ، امام موسیٰ کاظمؑ کو گرفتار اور قید کرنے کے اسباب ، امام علی رضاؑ کی ولی عہدی اور آپ کی اس سے دستبرداری کے تاریخی مسئلے کی تحقیق ، امام محمد تقیؑ ، امام علی نقیؑ ، امام حسن عسکریؑ اور امام مہدیؑ کی حیاتِ مبارکہ کے چیدہ چیدہ حالات اور قیام مہدیؑ کے انتظار کی خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے۔
امید ہے کہ طالب علم اور تاریخ کے شائقین اس کتاب سے بھرپور استفادہ کریں گے اور تاریخ اسلام کےپُر افتخار مباحث سے روشناس ہوں گے۔