اسلامی مذاہب
تعارف:
کتاب اسلامی مذاہب ڈاکٹر رضا برنجکارکی فارسی کتاب آشنائی با فرق و مذاہب اسلامی کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں صرف ان فرقوں اور مذاہب پر بحث کی گئی ہے جن کی پیدائش کے پس منظر میں اعتقادی اور کلامی نظریات کار فرما ہیں۔
عام طور پر ہر دین اور آئین کے پیغمبر یا بانی کی رحلت کے بعد ان کے ماننے والوں میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اختلافات بعض اوقات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ اس سے مختلف مذاہب اور مکاتب جنم لیتے ہیں اور ان کی وجہ سے اُس دین کے پیروکار مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ ان اختلافات کی وجوہات عام طور پر سیاسی ، فقہی ، اخلاقی اور اعتقادی ہوتی ہے۔ البتہ ان میں اعتقادی اور کلامی اختلافات زیادہ شدید نوعیت کے ہوتے ہیں۔
علم مذاہب کیا ہے؟
مذاہب کا علم اسلامی دنیا کا ایک قدیم اور مستقل علم ہے۔ یہ علم اسلامی معاشرے کی ثقافت اور دینی حیات سے قریبی تعلق رکھتا ہے۔ اگرچہ اس پر ہمیشہ تعصب کے بادل چھائے رہے ہیں اور اس میں غلط فیصلوں کے ذریعے مخالفین کے افکار کو مسخ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اسلامی افکار کی تاریخ کا کوئی محقق اور مؤرخ اس علم سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔
ایک اور پہلو سے بھی مختلف فرقوں کے عقائد اور نظریات کی تحقیق اہم ہے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ فکری اور اعتقادی مباحث میں مختلف نظریات اور آراء کے عقلی تجزیہ و تحلیل کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ فطری بات ہے کہ عالمانہ تجزیہ و تحلیل کے لیے ان آراء کی صحیح شناخت اور اس کے درمیان درست موازنہ لازمی ہے اور اگر فرق و مذاہب کے علم کو صحیح طریقے سے سیکھا پر پڑھا جائے تو اس سے مختلف اعتقادی نظریات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے لیکن ان سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ علم بہت سے دینی متون کو سمجھنے کے لیے ہمارا معاون ثابت ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس کے ذریعے سے اسلامی روایات میں پائے جانے والے ابہامات دور ہوتے ہیں اور بعض اوقات اس سے مفاہیم کی وضاحت میں مدد ملتی ہے۔ شیعہ اور سنی روایات میں بہت سے مقامات پر مختلف فرقوں کے نام بیان کئے گئے ہیں یا ان کے عقائد کو نقل کیا گیا ہے۔ ائمہ طاہرینؑ معارف حقہ بیان کرتے ہوئے مخالفین کی آراء کو بھی مدنظر رکھتے تھے اور وہ دینی حقائق اور انسان کے خود ساختہ عقائد کی حدود کو جدا کرتے تھے۔
دیگر اسلامی علوم کے برعکس یہ علم کسی ایک یا مخصوص نام سے موسوم نہیں رہا ہے بلکہ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس علم کو مختلف ناموں سے یاد کیا گیا البتہ اس کے دو نام زیادہ رائج اور معروف رہے ہیں جن میں سے ایک ’’ فرق و مذاہب ‘‘ہے۔ اس علم کی روش نقلی اور تاریخی ہےاور اس کا مقصد اعتقادی مکاتب کا تعارف کرانا ہے علم مذاہب کا موضوع اعتقادی فرقے ہیں۔ پاکستان میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کتا ب ہے۔
اس کتاب کے پہلا حصہ ابتدائی فرقوں مثلاًخوارج و خوارج کے ذیلی فرقے، مرجئہ،قدریہ،جبریہ و جہمیہ کے بارے میں ہے۔دوسرا حصہ شیعہ اور شیعی ادوار شیعوں کے فرقے مثلاً امامیہ، زیدیہ اور زیدی مذہب ،اسماعیلیہ اور اسماعیلی فرقےکے بارے میں ہے۔تیسرا حصہ اہل سنت کے معتزلہ، اہل حدیث ، اشاعرہ ،ماتریدیہ ،اور وہابیت کے بارے میں ہےاورچوتھا حصہ غلات (غلو کرنے والے) دروزیہ، نصیریت ،شیخی فرقے بابیہ و بہابیہ کے بارے میں ہے۔
یہ کتاب بے تعصب ذہنیت کے حامل تحقیقی مطالعہ کرنے والے اہل علم افراد کے لیے گراں بہا علمی سرمایہ ثابت ہو گی۔ ان شاء اللہ