اسلامی اخلاق
مؤلف کاتعارف:
آیت اللہ محمد آصف محسنی دنیائے تشیع کے ایک معروف عالم ہیں۔ آپ اپریل ۱۹۳۶ء کو افغانستان کے شہر قندھار میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی دینی تعلیم کے بعد ۱۹۵۲ء میں آپ نجف اشرف تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے آیات عظام سید محسن الحکیم ، حسین حلی سید ابو القاسم الخوئی اور سید عبدالاعلیٰ علی سبزواری کے رجال و حدیث اور اصول فقہ کے درس خارج میں شرکت کی۔ نجف اشرف میں ۱۲ سال تک پڑھنے کے بعد آپ واپس قندھار آگئے اور وہاں ایک دینی مدرسہ قائم کیا اور وہاں پڑھانے لگے۔ آیت اللہ محسنی نے افغانستان پر روسی قبضے کے بعد دمشق اور قم میں مقیم افغانی طلباء کے ساتھ حزب حرکت اسلامی افغانستان نامی پارٹی بنائی اور روس کے خلاف مسلح جدوجہد کی نہ صرف حمایت کی بلکہ خود بھی حصہ لیا۔ ڈاکٹر نجیب کے بعد جو حکومت بنی اُس میں آپ شوریٰ رہبری مجاہدین کے رکن بنے لیکن مجاہدین کے مختلف دھڑوں میں خانہ جنگی کی وجہ سے آپ اسلام آباد چلے آئے۔ یہاں چند سال رہنے کے بعد آپ قم چلے گئے اور وہاں فقہ ، کلام اور علم الرجال پڑھانے لگے۔ طالبان کے سقوط کے بعد آپ دوبارہ کابل آگئے اور ابھی تک وہیں مقیم ہیں۔ وہاں آپ نے حوزۂ علمیہ خاتم النبیین قائم کیا ہے اور ’’ تمدن ‘‘ ٹی وی چینل بھی آپ ہی کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔آپ اتحاد بین المسلمین کے داعی ہیں اور اس حوالے سے آپ کی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ آپ تقریباً ایک سو چھوٹی بڑی کتابوں کے مؤلف ہیں۔
کتاب کا تعارف:
کتاب اسلامی اخلاق آیت اللہ محمد آصف محسنی کی فارسی کتاب روش جدید اخلاق اسلامی کا اردو ترجمہ ہے۔اس کتاب مستطاب کی تالیف کا مقصد صرف اور صرف اَخلاق کا بیان ہے۔ دین اسلام نے اَخلاقیات پر بہت زور دیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ بااَخلاق بنیں۔ اچھے اخلاق کا حصول صرف اور صرف ایمان باللہ اور عزم بالجزم پر موقوف ہے۔
یہ کتاب پانچ بحثوں پر مشتمل ہے۔ مقدمہ بہت مفید مباحث پر مشتمل ہے ۔ باب اول میںانسان کا خدا کے ساتھ اخلاق باب دوم میں انسان کا اپنے ساتھ اخلاق اورباب سوم میںانسان کا دوسروں کے ساتھ اخلاق پر بحث کی گئی ہےآخر میںدعا اور چند دیگر مطالب بیان کیے گئے ہیں۔
ہمیں ’’ علم اَخلاق ‘‘ میں کسی طرح کی سہل انگاری سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس سے دنیائے اسلام کو سماجی ، سیاسی اور اقتصادی طور پر دھچکا لگ سکتا ہے لہٰذا اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ ضعیف اور غیر معتبر روایات سے استناد اور استدلال نہ کیا جائےنیز اسلامی اَخلاق کو یونانی اَخلاق نیز صوفیاء اور عرفاء کے افکار سے ہٹ کر قرآن مجید اور معتبر احادیث کی روشنی میںبیان کیا جائے۔ اَخلاقی مسائل بڑی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان کے علاوہ جتنے بھی مسائل ہیں چاہے سماجی ہوں ، سیاسی ہوں یا اقتصادی سب کی اساس اَخلاقی مسائل ہے۔
انسان چاہے جتنا بھی بڑا عقل مند ، دولت مند ، صحت مند ، طاقتور اور خوب صورت ہو اگر اُس کے اخلاق اچھے نہ ہوں تو وہ ایک بدبو دار لاش یا غلاظت کا ایک ڈھیر ہے چاہے ظاہر میں وہ صاف ستھرا اور سجا سنورا نظر آئے۔
اس کے برعکس ایک تربیت یافتہ انسان جس کا باطن پاک ہو وہ اگرچہ عقل مند نہ ہو ، دولت مند و صحت مند نہ ہو اور خوب صورت نہ ہو پھر بھی وہ اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے اُس درخشاں موتی کی طرح ہے جس پر گرد و غبار پڑا ہوا ہو۔
ہم امید کرتے ہیں کہ تمام اہل اسلام بالخصوص نوجوان اس کتاب کے پرتو میں اسلام کے درخشاں و موثر اخلاق کے ایک تازہ اُفق کا مشاہدہ کر سکیں گےاوراسلامی و رسمی اخلاق کے افتراق کو محسوس کرتے ہوئے سعادت و خوش بختی کی دائمی بقا کی راہ اپنائیں گے۔ ان شاءاللہ