اسلام اور اخلاق
تعارف:
کتاب اسلام اور اخلاق حجۃ الاسلام سید مجتبیٰ موسوی لاری کی فارسی کتاب رسالت اخلاق در تکامل انسان کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب کا موضوع اخلاق ہے اور اس میں اخلاقی اور نفساتی مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب پر اپنی کوئی رائے پیش کرنا نہیں چاہتے البتہ قاری خود اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے کہ یہ کتاب ایک الگ ڈھب سے لکھی گئی ہے اور اس کا اسلوب دوسری کتابوں سے منفرد ہے۔
دنیا کا ہر انسان خوشی ، خوشحالی اور سکون چاہتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کرتا ہے۔ گویا یہ دنیا ایک ’’ میدان جنگ ‘‘ ہے جہاں کامیابی کے لیے وہ اپنی جان کی بازی بھی لگا دیتا ہے۔ اس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہوجائے تاکہ وہ اپنی زندگی بڑے آرام اور مزے سے گزار ے۔ انسان نے اپنی ساری توجہ مادّی چیزوں پر مرکوز کردی ہے جس سے ایمان اور تقویٰ کی بنیادیں کمزور پڑ گئی ہیں اور معاشرہ خطرناک بے راہ روی کا شکار ہوگیا ہے۔ جرائم عام ہیں ، معاشرتی اصلاح کے نعرے دب گئے ہیں اور روحانیت کے بچے کھچے آثار نفسانی خواہشات کے شعلوں کی نذر ہو رہے ہیں۔ انسان مادی ترقی کے ہتھیاروں سے لیس ہوچکا ہے مگر نیکی کا جذبہ ٹھنڈا پڑچکا ہے اور سفلی صفات نے علوی صفات کی جگہ لے لی ہے۔جھوٹ ، حرص ، نفاق ، ظلم ، جاہ طلبی اور تمام اخلاقی برائیاں سعادت اور کمال کا راستا روکے کھڑی ہیں۔ رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور اجتماعی افراتفری نے معنویت کے سورج کو گہنا دیا ہے۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ اگر آج کے انسان سے اُس کو میسر مادّی فائدے چھین لیے جائیں تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا اور وہ مایوسی کے ایک معمولی جھٹکے سے ہی اپنی روحانی طاقت کھو بیٹھے گا۔
علمائے اخلاق اور ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان اسی وقت انسانیت کی بلند منزل پر پہنچ سکتا ہے جب اس میں معنویت اور اچھے جذبات پیدا ہو جائیںکیونکہ یہی معنوی دولت اور اخلاقی فضائل اُسے بے اعتدالیوں سے روک سکتے ہیں اور نقطۂ کمال تک پہنچا سکتے ہیں۔
جن لوگوں نے انسانی معاشروں کو متاثر کیا ہے اور جن کے نام سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں انھوں نے یہ عروج پاکیزہ اخلاق کی بدولت ہی حاصل کیا ہے۔ جس معاشرے میں اخلاق کا فقدان ہو اس کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ بڑی بڑی تہذیبوں اور قوموں کے زوال کی وجہ صرف اقتصادی حالت کی خرابی نہیں تھی بلکہ وہ معنوی اور اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ ہوگئے تھے۔
اسلام کی بنیاد تاریخ کی جس عظیم ترین ہستی کے ہاتھوں رکھی گئی ہے اور ایمان و تقویٰ کو جس دین کا معیار بتایا گیا ہے وہ اسلام اس دنیا کے علاوہ آخرت کی کامیابی اور کامرانی کا ذمہ بھی لیتا ہے۔ اسلام کا مقصد ہی انسان کی سربلندی اور پاکیزہ عقائد و اخلاق کی ترویج ہے۔ اسلام فضائل کو خواہشوں کی بھینٹ چڑھانے کا ہرگز قائل نہیں ہے۔ اسلام ان لوگوں کا شدید مخالف ہے جو ’’ انسانیت ‘‘ کو رسوا کرتے ہیں اور انسانوں کے مابین باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم کی فضا کو خراب کرتے ہیں۔ جس معاشرے میں اسلام کے بتائے ہوئے معاشرتی رشتے مضبوط ہوں ، جس پر خلوص اور صدق و صفا کی حکمرانی ہو اور جس میں ہر ایک کی حیثیت کا لحاظ رکھا جاتا ہو وہ معاشرہ ایک عمدہ معاشرہ ہوتا ہے۔ اس معاشرے میں معنوی وحدت پائی جاتی ہے اور ہر شخص قانون کی نظر میں برابر ہوتا ہے جو پورے معاشرے کی سعادت کا باعث ہوتا ہے۔
اس کتاب میں جدیداسلوب اپنایا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ اخلاقی موضوعات کو آج کی سادہ زبان میں لکھا جائے اور غیر مانوس اصطلاحات سے گریز کیا جائے۔ اخلاقی مسائل کے ساتھ کچھ روحانی اور تربیتی مسائل کا حل پیش کیا جائے۔ نیز مغربی دانشوروں کے اقوال کے پہلو بہ پہلو ائمہ معصومین علیہم السلام کے ارشادات کو بھی شامل کردیا جائے جو چودہ سو سال گزرجانے کے باوجود آج بھی ترو تازہ ہیں۔
امید ہے کہ ہم سب بزرگان اسلام کے زریں اقوال اور علمائے اخلاق کے ارشادات پر عمل کرکے اپنی اصلاح کرسکتے ہیں نیز اپنے اخلاقی اور نفسیاتی مسائل حل کرسکتے ہیں اور دین و دنیا کی سعادت سے بہرہ مند ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ کتاب بہترین رہنما ثابت ہوگی۔ ان شاء اللہ