اسلام دین معاشرت
تعارف:
کتاب اسلام دین معاشرت ، 30 علماء کرام کے پینل نے مرتب کی ہے۔ اسےفارسی زبان سے ترجمہ کیا گیاہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ گزشتہ ادوار میں اسلام نے قلیل مدت میں جو عظیم کامیابیاں حاصل کیں اور پرانی دنیا کو ملیامیٹ کرکے زندگی، علم و دانش، تقویٰ اور فضیلت سے بھرپور ایک نئی دنیا کو جنم دیا اس کی یہی وجہ تھی کہ اس مقدس دین کو اہل عالم کے سامنے اس کی حقیقی صورت میں پیش کیا گیا اور یہی چیز ہے جو آج بھی اس دنیا کو جو فساد ، اختلاف، پراگندگی، سرد اور گرم جنگوں ، مسلح مقابلوں ، دھوکہ بازی، شیطنت، اور استعمار کی مختلف شکلوں کی آگ میں جل رہی ہے، خلوص، نیک نیتی، سچائی اور نیکی کا ماحول مہیا کرسکتی ہے۔ اسلام ایک ایسا وسیع ، مستقل اور پُر مایہ پروگرام ہے جو انسان کی ولادت سے موت تک ، گھر کی چار دیواری سے میدان جنگ تک اور دُکان سے کرسی قضاوت تک انسان کی خوش بختی کا راستہ متعین کرتا ہے۔
اس کتاب کی تالیف کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے گراں بہا اجتماعی احکام کے متون کسی ملمع کاری اور حاشیہ آرائی کے بغیر ان کی اصلی شکل میں پیش کیے جائیں تاکہ اس ذریعے سے اسلام کو متعارف کرانے کی جانب قدم اٹھایا جاسکے۔ یہ طریقہ تبلیغ اسلام کے لیے مؤثر ترین ہے۔
اس مقصد کے تحت مختلف اجتماعی مسائل سے مربوط 1900 سے زیادہ آیات اور احادیث جمع کرکے ان میں سے 582 ایسی آیات اور احادیث کا انتخاب کیا گیا ہے جو زیادہ سادہ اور عام فہم معلوم ہوئیں۔ احادیث کی جمع آوری بڑی احتیاط کے ساتھ 30 سے زائد علماء کے پینل نے کتب حدیث سے کی ہے۔ ان کے ترجمے کے بارے میں اطمینان کرنے کے لیے اصلی مصادر سے رجوع کیا گیا ہےتاکہ جو آیات اور احادیث نقل کی گئی ہیں ان کا ترجمہ ان سے مکمل مطابقت رکھتا ہو۔
احادیث کے متون کی اصلی مآخذ سے بڑی احتیاط سے تطبیق کی گئی ہےاورکتاب کے آخرمیں مآخذ کے حوالے دیے گئے ہیں۔
چونکہ اصلی متون کا ذکر کرنے کا مقصد اسلام کے اجتماعی احکام کو کسی اضافے کے بغیر پیش کرنا تھا اس لیے فقط آیات اور احادیث کے ترجمے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ صرف کہیں کہیں ایسے چھوٹے جملوں کا اضافہ کیا گیا ہے جو احادیث کی تفہیم اور ان کا ایک دوسری سے رابطہ واضح کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس مقصد کے پیش نظر کہ یہ مختصر جملے احادیث کےساتھ خلط ملط نہ ہو جائیں انھیں احادیث سے علیحدہ کرکے لکھا گیا ہے۔
آیات اور روایات کے ترجمے میں زیادہ تر عبارات کے قابل فہم ہونے کی رعایت کی گئی ہے اور تحت اللفظ ترجمے سے احتراز کیا گیا ہے۔
یہاں اس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہےکہ جو کچھ اس کتاب میں جمع کیا گیا ہے وہ اسلام کے وسیع اجتماعی احکام کا محض ایک حصہ ہےاور ان سب احکام کا ذکر کرنے کے لیے کئی کتابیں درکار ہیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ معاشرے کے مختلف طبقے بالخصوص تعلیم یافتہ طبقہ اور طالب علم طبقہ چاہے دینی طالب علم ہو یا عصری علوم کے طالب علم اس کتاب کے پرتو میں اسلام کے اجتماعی احکام کے ایک تازہ اُفق کا مشاہدہ کر سکیں گےاور دین کی حقیقت سمجھنے کے سلسلے میں جن لوگوں کے دلوں میں غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں اور جنہوں نے ان احکام کو محض رسومات سمجھ رکھا ہے وہ اپنے خیالات کی اصلاح کرلیں گے۔
ان شاءاللہ