قَدْ جَآ ءَ کُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ
ملٹی میڈیا
ویڈیوز
آڈیو
(درسِ   اوّل) تجوید القرآن
(درسِ   دومّ) تجوید القرآن
(درسِ   سوّم) تجوید القرآن
(درسِ   چہارم) تجوید القرآن
مکتب رسول پروگرام
    تعارف
ایک قوم کی زندگی کی اولین شرط علم و دانش ہے۔ موجودہ دور میں علم و تمدن کے لحاظ سے ترقی یافتہ اقوام کو ’’زندہ کا نام دیا جاتا ہے اور بعض اوقات اس کے مقابلے میں بعض اقوام کو‘‘ مردہ ’’یا‘‘ وحشی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس تعبیر کی جڑیں اسلام کے پیشوا یان دین کے ارشادات کے ضمن میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ رسول اکرمؐ فرماتے ہیں:
’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ خدا علم کے خواہش مند لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘
آج دنیا میں علم کی اہمیت اظہر من الشمّس ہو چکی ہے اور یہ کہاوت مشہور ہے کہ اگر ایک سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو فصلیں اگاؤ ۔ اگر ایک سو سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو درخت اُگاؤ اور اگر آئندہ ایک ہزار سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو تعلیم پر سر مایہ لگاوؐ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں تعلیم کے شعبے کو ہمیشہ سب سے پہلے اور سر فہرست رکھا جاتا ہے۔
یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ پیشوایان دین کے ارشادات میں ہمیشہ اُس علم کی تعریف کی گئی ہے جو عمل کے ہمراہ ہو اور اُس دانش کو سراہا گیا ہے جو کردار سے پیوست ہو لٰہذا تعلیم و تربیت کا اولین مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ کی بندگی کریں۔ اور آپس میں امن و آشتی اور پیار و محبت کے ساتھ رہیں۔
اگر روز مرہ زندگی میں انسان کی انفرادی سیرت یا معاشرے کی مجموعی سیرت میں مثبت تبدیلی رونما ہو رہی ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ تعلیم تربیت معیاری ہیں۔ لکین اگر اخلاق گرواٹ میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہو اور برائیوں کا شکار ہو رہے ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ تعلیم معیاری نہیں ہے اور تربیت کا بھی فقدان ہے۔
امام علی علیہ اسلام ارشاد فرماتے ہیں۔
’’اے لوگوں ! جان لو کہ تمھارے دین کا کمال اس میں ہے کہ تم علم حاصل کرو اور اس پر عمل کرو۔ تمھارے لیے علم کے پیچھے جانا دولت کے پیچھے جانے سے زیادہ ضروری ہے۔‘‘
عموماّ دیکھنے میں آیا ہے کہ علم وفن سے آراستہ افراد کا معاشرہ اقتصادی اعتبار سے زیادہ خوشحال ہوتا ہے بہ نسبت ان پڑھ ، غیز تربیت یافتہ افراد کا معاشرہ کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے اور باشعور لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھتے بلکہ اپنے وسائل خود تلاش کرتے ہیں اور جلد ہی اپنی منزلوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ پڑھی لکھی قوم ہی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
اس تناظر میں جب ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو بد قسمتی سے بڑی مایوس کن صورت حال نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں بعض سرکاری غیر سرکاری نیز بین الا قوامی سروے رپورٹس کے اعداد و شمار جو سوشل میڈیا پر موجود ہیں بتاتے ہیں کہ۔
پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں میں سے ۲۵ میلن پرائمری اسکول ہی نہیں جاتے۔  
اس وقت (سروے ۲۰۱۵) تقریباََ ۷ ملین بچے ایسے ہیں جو اسکول جانے کی عمر میں ہیں یعنی ان کی عمریں پانچ سے نو  
سال کے درمیان ہیں لکین وہ پھر بھی اسکول نہیں جاتے۔     
جبکہ چھ سے سولہ بر کے ۲۱ فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔  
پانچویں جماعت کے تقریباََ ۵۰ فیصد بچے دوسری جماعت کی سطح کی اردو پڑھ سکتے۔  
جو بچے اسکولوں میں داخل ہیں ان کی غالب اکثریت تعلیم مکمل کرنے سے پہلے اسکول چھوڑ دیتی ہے۔  
پا کستانی بچوں کی اکثریت معیاری تعلیم سے محروم ہے۔  
پاکستان میں بہت کم بچے ہائی اسکولوں تک پہنچتے ہیں۔  
ہمارے وطن کی زیادہ تر آبادی اب بھی دیہاتوں میں ہی رہتی ہے جہاں شرحِ خواندگی ، تعلیمی شہولیات، معیارِ تعلیم، اسکولوں میں داخلے کی شرح، اساتذہ کی تربیت و تعلیمی قابلیت نہ صرف مایوس کن ہے، بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔ 
دیہی علاقوں کی صرف ۲۴ فیصد مائیں ایسی ہیں جن کی تعلیم صرف پرائمری ہے۔  
تعلیم و تربیت کی جانب راغب نہ ہونے اور نا خواندگی کی بڑی وجوہات میں سے چند درج ذیل ہیں۔ 
اسکول کی کمی۔  
موجودہ اسکولوں کا ابترانفر صٹرکچر۔  
تعلیمی نصاب۔  
کمیونٹی کی سطح پر بامعنی شرکت کا نہ ہونا ۔ اس کے علاوہ :  
تعلیم نا مکمل چھوڑنا۔  
طالب علموں سے سیکھنے کے جس درجے کی توقع کی جاتی ہے اس کی عدم موجودگی۔  
غیر منظم نجی اسکول سسٹم۔  
شہروں کے اساتذہ کا گاؤں کے اسکولوں میں جانے سے کترانا۔  
بچیوں کے اسکولوں میں کم داخلوں کی وجوہات میں خواتین دوست سہولیات کی عدم دستیابی مثلاََ علیحدہ ٹوائلٹ  
اسکول کی با ونڈری دیواریں نہ ہونا اور خواتین اساتذہ کی کمی کو قرار دیا گیا ہے۔      
من حیث القوم یہ بات لمحہ فکر یہ ہے کہ تعلیم کے میدان میں ہم بے شمار ممالک سے پیچھے ہیں کیونکہ یہاں لوگوں کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع اور سہولتیں ناکافی ہیں۔ تعلیمی فقدان کی ایک اوربڑی وجہ غربت بھی ہے۔ غریبوں کی پہنچ میں معیاری تعلیم تو کیا آئے گی ، تعلیم کا انتظام ہی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ہمار دینی فریضہ ہے کہ ہم اپنی ملت کو جہالت و افلاس سے چھٹکارہ دلانے کے لیے اپنے اپنے وسائل کے اعتبار سے کوشش کریں۔ اس کی بہتری کے لیے معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد کو اپنا اپنا فرض نبھانا ہوگا معاشرے کی ان تمام اکائیوں کی طرف سے محنت اور خلوص نیت شرط ہے۔ بد قسمتی سے ہم ہر محنت کے کام میں جلد بازی اور ہیرا پھیری سے کام لینے کی لت میں پڑگئے ہیں جب کہ ’’محنت‘‘ کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ ہمیں مل کر اس مقصد کے لیے کام کرنا ہو گا، اپنے معاشروں میں تعلیم کو عام کرنا ہوگا، ہر بچے کو اسکول بھیج کر تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کرنا ہوگی کیونکہ وہیں قومیں تہذیب یافتہ اور مہذب مانی جاتی ہیں جو تعلیم کی دولت سے مالا مال ہوتی ہیں کسی قوم کی تباہی کے لیے اُس کا جاہل ہونا کافی ہے۔
یہ کورس مکتب اسکول میں پڑھایا جائے تو پانچ سال کا ہے۔    
 اسکول میں پڑھایا جائے تو دس ل سا کا ہے۔    
  اقامتی مدارس میں پڑھایا جائے تو دو سال کا ہے۔    
   یہ کورس ہمارے معاشرے کی ضرورت کو مدنظررکھ کر مرتب کیا گیا ہے۔    
امید کی کرن
اس صور تحال میں ان مسائل سے دوچار ہزاروں بچوں کیلے مکت رسول پروگرام کے تحت چلنے والے غیر رسمی مکتب اسکول امید کی کرن بن چکے ہیں۔ ان مکتب اسکول سے ہزاروں بچے اپنی علم کی پیاس بجھا رہے ہیں۔
رنگ پور، ضلع رحیم یار خان

مکتب رسولؐ پروگرام کے تحت قائم مکتب اسکول میں معلمہ بچیوں کو تعلیم دے رہی ہیں۔
مقاصد
ملت کے بچے اور بچیوں کی اخلاقی تربیت بنیادی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرنا۔  
لکھنا، پڑھنا اور بولنا، سکھاکر ’’خواندہ‘‘ بنانا، بالخصوص پسماندہ اور تعلیم سے محروم بچو ں کے لیے ’’تعلیم کا انتظام‘‘ کر کے  
انھیں مین اسٹریم میں لانا۔    
میٹرک سطح کی تعلیمی استعداد و صلاحیت پیدا کر کے دنیاوی تعلیم کے حصول کی حوصلہ افزائی کرنا۔  
سالانہ امتحان 
تقریبِ انعامات 
طلباء کے تاثرات 
اساتذہ کے تاثرات 
دورہِ مکاتب 
تصویریں  
ویڈیوز